مضامین بشیر (جلد 2) — Page 328
۳۲۸ مضامین بشیر اضافہ نہ ہوتا کہ بھیڑ بکریوں کے ایک منتشر گلہ کی طرح کوئی رشتہ دار لاہور میں ہے تو کوئی ڈیرہ غازی خان میں کوئی لائکپور میں ہے تو کوئی مظفر گڑھ میں۔کوئی سیالکوٹ میں ہے تو کوئی بہاولپور میں۔یہ ایک مصیبت کے اوپر کی دوسری مصیبت صرف موجودہ پالیسی کی وجہ سے پیدا ہوئی اور اس کی وجہ سے فسادات کا صدمہ نہایت ہولناک صورت اختیار کر گیا۔(۲) موجودہ تقسیم کے لحاظ سے بہت سے غیر زمیندار جو مشرقی پنجاب میں زمین کے مالک نہیں تھے غلط رپورٹ کر کے اپنے نام پر زمین الاٹ کرواچکے ہیں۔کیونکہ ان کی رپورٹ کو چیک کرنے کا کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں تھا لیکن اگر علاقہ وار آبادی کا انتظام ہوتا تو کسی کو اس قسم کی غلط رپورٹوں کی جرات نہ ہوتی۔اور اگر کوئی من چلا جرات کرتا تو اسی گاؤں والوں کی شہادت اس کے خلاف موجود ہوتی۔(۳) علاقہ وار آبادی کا اصول اختیار کرنے سے یہ بھاری فائدہ بھی ہوتا کہ جو زمین مغربی پنجاب میں غیر مسلموں نے چھوڑی ہے وہ مشرقی پنجاب کے پناہ گزینوں کے لئے کافی ہو جاتی۔کیونکہ اس صورت میں ناجائز الاٹ منٹ کا راستہ بند ہوتا۔اور جو ہولناک نظارہ اب نظر آ رہا ہے کہ اب تک لاکھوں زمیندار کیمپوں میں پڑے سڑرہے ہیں وہ نظر نہ آتا اور سب لوگ سہولت کے ساتھ اپنے اپنے حصہ کی زمین حاصل کر لیتے۔اکثر مبصروں کا خیال ہے کہ زمین تو پوری ہے مگر نا جائز الاٹ منٹ کی وجہ سے کم ہو گئی ہے۔(۴) موجودہ تقسیم میں بعض بے اصول پٹواریوں اور گرداوروں بلکہ ان کے بالا افسروں کو نا جائز ہاتھ رنگنے کا جو موقع مل گیا ہے وہ بھی علاقہ وار تقسیم کی صورت میں ہرگز نہ ملتا یا بہت کم ملتا اور یہ درد ناک نظارہ نظر نہ آتا کہ مشرقی پنجاب کا زمیندار ایک تو مشرقی پنجاب سے لٹ کر آیا ہے اور دوسرے اسے مغربی پنجاب کے بے اصول سرکاری ملازموں کے سامنے اپنی باقی ماندہ جیب خالی کرنی پڑی ہے۔دنیا بھر میں حسن انتظام کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی اہم کام کو یونہی بے سوچے سمجھے ہاتھ ڈال دینا ہمیشہ خرابیاں پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے۔اور اس کے مقابل پر اگر شروع میں تھوڑا سا وقت بھی سوچنے اور سکیم بنانے میں خرچ کر دیا جائے تو یہ وقت ضائع نہیں ہوتا۔بلکہ بہت سی بعد کی خرابیوں کے سد باب کا ذریعہ بن جاتا ہے۔یہ سوال نہیں اٹھنا چاہئیے کہ شروع میں جو وقت سکیم بنانے میں خرچ ہوتا اس وقت پناہ گزین کہاں جاتے اور ان کا کیا انتظام ہوتا۔کیونکہ میں بتا چکا ہوں کہ پناہ گزینوں کو شروع میں کیمپوں میں لے جانا چاہئیے تھا۔یا کم از کم ہر دیہاتی پناہ گزین کا نام کسی نہ کسی کیمپ میں درج