مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 327 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 327

۳۲۷ مضامین بشیر ہوتا ہے۔چنانچہ پنجاب کے اکثر دیہات کا نام بھی قوموں کی بناء پر رکھا گیا ہے۔مثلاً اگر کسی گاؤں میں بھٹی راجپوتوں کے خاندان آباد ہیں تو وہ گاؤں بھٹی کہلاتا ہے۔اور اگر کھوکھر قوم کے راجپوت آباد ہیں تو بسا اوقات ایسا گاؤں کھو کھر کہلاتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی گاؤں جائوں کے چیمہ قبیلہ سے آباد ہے تو یہ گاؤں چیمہ کہلاتا ہے۔اور اگر بھنگو قوم سے آباد ہے تو ایسا گاؤں بھنگواں کہلاتا ہے۔اور اگر کاہلوں گوت کے جائوں سے آباد ہے تو ایسا گاؤں کا ہلواں کہلاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔آبادی کے اس طریق سے بھی پنجاب کے دیہات کی قوم وار آبادی کا اصول ظاہر ہے۔پس اس میں ہرگز کوئی شبہ نہیں کہ اگر شروع میں ہی پناہ گزینوں کو ضلع وار آبادی کے اصول پر بسایا جاتا تو یہ بہر حال بہت بہتر ہوتا۔بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ ضلعوار آبادی کا اصول بھی ایک حد تک انتشار پیدا کرنے والا ہے۔زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ تحصیل واریا تھا نہ وار بلکہ دیہہ وار اصول پر آبادی کی جاتی اور شروع میں یہ کوئی مشکل کام نہ تھا۔بلکہ ذراسی مزید توجہ اور ذرا سے مزید انتظام کے ساتھ یہ سارا کام آسانی کے ساتھ سرانجام پاسکتا تھا۔اور وہ اس طرح کہ لاہور اور دیگر اضلاع میں پناہ گزینوں کے کیمپ قائم کر دیئے جاتے (اور بہر حال کیمپ تو اب بھی قائم ہیں ) اور یہ ضروری قرار دیا جاتا کہ جو پناہ گزین بھی دیہاتی علاقہ میں آباد ہونا چاہے وہ پہلے کیمپوں میں جائے ، یا کم از کم کیمپوں کے ریکارڈ میں اس کا نام درج ہو اور پھر آگے ان کیمپوں سے علاقے میں پناہ گزینوں کی تقسیم کا انتظام کیا جائے۔اگر مغربی پنجاب کی حکومت کو مشرقی پنجاب کے دیہات کے نام معلوم نہیں تھے۔( گومرکزی ریکارڈ سے یہ کوائف حاصل کرنا بھی مشکل نہ تھا ) تو کم از کم تحصیلوں اور تھانوں کے نام تو معلوم تھے۔پس شروع میں ہی مردم شماری کے اعداد و شمار کی بناء پر مشرقی پنجاب کی ہر تحصیل اور ہر تھانہ کے مقابل پر مغربی پنجاب کی ملتی جلتی تحصیل اور تھانہ نامزد کیا جا سکتا تھا۔اور ذرا سا مزید وقت دے کر اور تھوڑے سے مزید انتظام کے ساتھ یہ سارا مرحلہ بخوبی طے پا سکتا تھا۔یہ درست ہے کہ فسادات اور ہجرت کا زمانہ غیر معمولی مصائب اور انتشار کا زمانہ تھا۔اور اس زمانہ کی ہنگامی نوعیت کی وجہ سے حکومت کی کئی غلطیاں دراصل قابل معافی ہیں۔اور ان پر زیادہ سختی سے گرفت کرنا عقلمندی کا شیوہ نہیں۔درحقیقت یہ ایک قیامت کا زمانہ تھا جس میں تمام سابقہ نظام ٹوٹ کر انتہائی ابتری کی حالت پیدا ہو چکی تھی۔لیکن پھر بھی اگر ذرا سوچ بچار اور دور بینی سے کام لیا جاتا تو مشرقی پنجاب کی ہر تحصیل اور تھانہ کے مقابلہ پر مغربی پنجاب کی تحصیلوں اور تھانوں کو نامزد کر کے ضلعوار کیمپوں کے ذریعہ سے پناہ گزینوں کی تقسیم کرنا ناممکن نہیں تھا۔اور اگر ایسا ہوتا تو اس کی وجہ سے بہت سی خرابیوں کا سد باب ہو جا تا۔مثلاً :۔(۱) رشتہ دار اور برادری کے لوگ اکٹھے رہتے اور فسادات کی ہولناک مصیبت پر اس مصیبت کا