مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 324 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 324

مضامین بشیر ۳۲۴ ڈاکٹر میجر محموداحمد کی شہادت ایک مخلص اور بے نفس نو جوان ہم سے جدا ہوا دوستوں کو اخبار الفضل کے ذریعہ ڈاکٹر میجر محمود احمد صاحب کی شہادت کی خبر مل چکی ہے۔چونکہ مرحوم میجر محمود میرے صیغہ کے انتظام کے ماتحت گزشتہ ایام میں قادیان بھی گئے تھے، اس لئے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کے متعلق دعا کی تحریک کی غرض سے یہ مختصر نوٹ الفضل میں شائع کراؤں۔مرحوم ڈاکٹر میجر محمود احمد صاحب امرتسر کی مشہور اور قدیم مخلص قاضی فیملی کے ایک بہت ہی ہونہار اور احمدیت کے فدائی نوجوان تھے۔ان کے دادا ڈا کٹر قاضی کرم الہی صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے احمدیت کی نعمت سے مشرف ہوئے۔اور پھر آج تک یہ خاندان اپنے اخلاص میں ممتاز چلا آیا ہے۔گزشتہ فسادات کے دنوں میں ڈاکٹر میجر محمود احمد نے اپنی ترقی کرتی ہوئی کوئٹہ کی پریکٹس کو خطرے میں ڈال کر قادیان کی خدمت کے لئے اپنا نام پیش کیا۔اور جب اوائل اکتوبر ۴۷ ء میں ایک کا نوائے قادیان گیا تو اس میں میرے لڑکے عزیز مرزا منیر احمد کے ساتھ مرحوم میجر محمود بھی شامل تھے۔مگر ان ایام میں چونکہ قادیان کی احمدی آبادی پر بڑا حملہ ہونے والا تھا۔اس لئے اس کا نوائے کو غلط بہا نہ رکھ کر بٹالہ میں روک لیا گیا۔اور نہ صرف روکا گیا بلکہ اسے بٹالہ میں بے پناہ گولیوں اور آتش زنی کا نشانہ بنایا گیا اور مرحوم محمود احمد بٹالہ سے لاہور واپس آنے پر مجبور ہو گئے۔چنانچہ انہوں نے حضرت صاحب کے ارشاد کے ماتحت دوسرے کانوائے کی انتظار میں رتن باغ کے کیمپ میں احمدی پناہ گزینوں کی خدمت اپنے ذمہ لی اور نہایت اخلاص اور محبت کے ساتھ اس فرض کو سرانجام دیا۔اس کے بعد جب اکتوبر کے آخر یا نومبر کے شروع میں دوسرا کا نوائے قادیان گیا تو مرحوم میجر محمود احمد کو بھی قادیان جانے کا موقع میسر آ گیا۔تو مرحوم نے اپنے والدین کو خطرات کے پیش نظر ان الفاظ میں اپنے سفر کی اطلاع دی کہ میں سلسلہ کی خدمت کی غرض سے قادیان جا رہا ہوں اور اپنے پیچھے آپ کی تسلی کے لئے اپنے اکلوتے اور چھوٹے بچے کو چھوڑے جارہا ہوں۔اگر میں زندہ نہ لوٹوں تو آپ صبر سے کام لیں اور خدا کے شکر گزارر ہیں۔چنانچہ ڈاکٹر میجرمحمود احمد قادیان گئے اور کم و بیش تین ماہ تک قادیان میں رہ کر نہایت اخلاص اور