مضامین بشیر (جلد 2) — Page 312
مضامین بشیر ۳۱۲ رسول نے انہیں دیکھا ہوتا ہے۔اس کے مقابل پر تنگ دائرہ والی تعریف یہ کی گئی ہے کہ :۔وہ مومن جس نے رسول کو اپنے بلوغ یا شعور کی حالت میں دیکھا ہو۔یا رسول کا کلام سنا ہوا اور رسول کی صحبت میں رہ کر اس سے فائدہ اٹھایا ہو صحابی کی مؤخر الذکر تعریف واقعی نہایت لطیف ہے اور صحابی کا لفظ بھی اسی کی تصدیق کرتا ہے۔کیونکہ در اصل صحابی کے معنے ہی صحبت اٹھانے والے شخص کے ہیں۔اور قرآن شریف نے بھی ایک جگہ اسی تعریف کی طرف اشارہ کیا ہے۔لیکن انسانی فطرت کی یہ کمزوری ہے (یا شاید یہ خوبی ہی ہو ) کہ جب اس کے ہاتھ سے کوئی اعلیٰ چیز نکلنے لگتی ہے۔یا نکل جاتی ہے تو پھر وہ نسبتاً ادنی چیز کو ہی اعلیٰ کہہ کر اس پر تسلی پانے کی کوشش کرتا ہے۔پس جوں جوں حقیقی صحابہ کی تعداد کم ہوتی گئی ، علماء نے بھی صحابی کی تعریف میں وسعت پیدا کر دی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے نابالغ بچوں کو بھی صحابیوں کے زمرہ میں شامل کر کے اس دائرہ کو وسیع کر دیا۔اور اس میں شبہ نہیں کہ بسا اوقات کم سنی یا خام عمری میں بھی ایک نیکی کی بات کان میں پڑی ہوئی دائمی فیض اور دائمی برکت کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔اس لئے میں نے موجودہ حالات میں بین بین کی تعریف کو ترجیح دی ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا اصل مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنی روزانہ دعاؤں میں صحابہ کی بابرکت جماعت کو بھی لازماً شامل کرنا چاہئے۔اب یہ مبارک جماعت بہت تھوڑی رہ گئی ہے اور میرے خیال میں اس وقت حقیقی صحابہ کی مجموعی تعداد ڈیڑھ دو ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی۔( کاش اب ہی ان کی فہرست مکمل کی جا سکے ) اور پرانے صحابہ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ابتدائی زمانہ پایا ہے ، وہ تو بہت ہی تھوڑے رہ گئے ہیں۔گویا چند سحری کے وقت کے ٹمٹماتے ہوئے چراغ ہیں۔جنہیں دیکھ کر اگر ایک طرف دل انتہائی خوشی سے بھر جاتا ہے تو دوسری طرف سینہ میں یہ ہوک بھی اُٹھتی ہے کہ نا معلوم ہوا کا اگلا جھونکا ان میں سے کس کس کو بجھا کر رکھ دے گا۔میرے دوستو ، بزرگو اور عزیز و! یہ درد کی باتیں ہیں انہیں فلسفہ کی نظر سے نہ دیکھو بلکہ محبت کے ترازو سے تو لو اور جہاں اس مبارک گروہ کے واسطے دعائیں کرو وہاں ان سے کچھ عشق و وفا کا سبق بھی سیکھ لو۔آئندہ نسلوں کو علم سکھانے والے تو غالباً بہت پیدا ہو جائیں گے۔مگر صحابہ کی سی والہانہ محبت کے حامل کسی ایک زمانہ میں اس کثرت کے ساتھ آئندہ جمع ہونے مشکل ہوں گے۔کیونکہ خدا کے فضل سے حضرت مسیح موعود کے حاشیہ نشینوں نے وہی خمیر پایا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آپ کے صحابہ کو پہنچا تھا۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے۔وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی آخری زمانہ میں صحابہ