مضامین بشیر (جلد 2) — Page 307
۳۰۷ مضامین بشیر کا موجب بھی ہوسکتا ہے۔مگر یہ بات ہر گز منع نہیں کہ کمزوری کی نوعیت کو چھپاتے ہوئے صرف اس قدر اظہار کیا جائے کہ میں نے اپنی ایک کمزوری کے دور کرنے کا عہد کیا ہے اور اس معاملہ میں دوست بھی دعا سے میری مدد فرمائیں۔اگر یہ اظہار بھی منع ہو تو نعوذ باللہ اسلام کی وہ سب دعا ئیں قابل اعتراض ٹھہرتی ہیں جن میں خدا کے حضور کمزوریوں اور لغزشوں کے دور ہونے کی التجا سکھائی گئی ہے اور ہر مسلمان ایسی دعائیں برملا مانگتا ہے۔چنانچہ استغفار وغیرہ کی دعا ئیں اسی نوع میں داخل ہیں اور قرآن شریف اس قسم کی دعاؤں سے بھرا پڑا ہے۔مثلاً : وقبلية رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأنَا۔۔وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا يفة ۸۶ يا مثلاً : رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا - يا مثلاً : رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا AZ ΑΛ يا مثلاً : رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِن ۱۸۹ الْخُسِرِينَ) یا مثلاً نماز کی یہ دعا کہ : اللهم اغفرلي وارحمنى و اهدنى وعا فنی و ارفعنی واجبرنی وارزقني۔۔۔۔۔۔19° یا مثلاً حدیث کی یہ دعا کہ : اللهم اغفر لي ذنبى واجنبني من الشيطان الرجيم یا مثلاً لیلتہ القدر کی یہ دعا کہ : - اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفِ عنی وغیرہ وغیرہ۔یہ سب دعا ئیں اور اسی قسم کی بے شمار دوسری دعا ئیں جن میں اجتماعی طور پر بھی اور انفرادی طور پر بھی اپنی کمزوریوں اور خطاؤں اور گناہوں کی بخشش کی التجا کا سبق سکھایا گیا ہے، اسلامی نظام روحانیت کا اہم ترین حصہ ہیں اور یہ دعائیں قلوب کی صفائی کا ایک نہایت عمدہ نسخہ بھی ہیں اور نہ صرف یہ کہ اسلام نے اس قسم کی دعاؤں کے اظہار سے روکا نہیں بلکہ ان کی تحریک فرمائی ہے۔البتہ کمزوری کی نوعیت کے اظہار سے ضرور منع کیا ہے کیونکہ ایسا کرنا خدا کی صفت ستاری کے خلاف ہے اور یہی وہ اظہار ہے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے منع فرمایا ہے۔در اصل حضرت مولوی شیر علی صاحب کی یہ روایت سب سے پہلے مجھے ہی پہنچی تھی اور پھر میں نے