مضامین بشیر (جلد 2) — Page 295
۲۹۵ مضامین بشیر دین دنیا پر مقدم رہے اور ساری ذاتی دعائیں دنیا ہی کے لئے وقف نہ ہو جا ئیں اگر چہ ہمارے خدا کی رحمت کا دامن تو یہاں تک وسیع ہے کہ ہمارے آقا علیہ فرماتے ہیں کہ اگر تمہاری جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی اپنے خدا سے مانگو اللہ اللہ اللہ اللہ۔یہ کتنی بھاری نعمت ہے جو ہر وقت ہمارے سامنے موجود ہے مگر کوئی لینے والا بھی ہو۔یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ ذاتی دعاؤں میں سب سے مقدم یہ دود عا ئیں ہیں کہ (۱) ہم اپنی زندگی خدا کی رضا کے مطابق بسر کریں اور (۲) ہمارا انجام اس کی خوشنودی پر ہو۔اور این است کام دل اگر آید میسرم نیک انجام کی دعا میں عذاب قبر سے محفوظ رہنے کی دعا بھی شامل کرنی چاہئے کیونکہ جیسا کہ میں انشاء اللہ ایک علیحدہ مضمون میں بتاؤں گا عذاب قبر عذاب نار سے ایک جدا گانہ چیز ہے اور عذاب قبر بعض جنت میں جانے والے مومنوں کو بھی ہو سکتا ہے۔(11) بالآخر میں اپنے ذوق کے مطابق یہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ حکومت وقت کیلئے بھی دعا کی جائے کیونکہ حکومت کے استحکام اور حکومت کی مضبوطی اور ترقی کے ساتھ پبلک کے بہت سے مفاد وابستہ ہوتے ہیں اور حکومت کی کمزوری یا حکومت کی غلط روش بھی بہت سی خرابیوں کا موجب بن جاتی ہے۔یہ وہ دعائیں ہیں جو ہماری روزانہ دعاؤں کے پروگرام میں لازماً شامل ہونی چاہئیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ اپنی ہر نماز میں یہ ساری دعائیں ضرور شامل کی جائیں مگر ان میں سے بعض دعا ئیں تو لازماً ہر نماز میں ہونی چاہئیں اور باقی کو حسب حالات مختلف نمازوں میں پھیلا یا جاسکتا ہے، لیکن بہر حال یہ سب دعا ئیں ایسی ہیں جن کے ذکر سے سچے مومن کی زبان ہر وقت تر رہنی چاہئے۔کاش دنیا جانتی کہ دعا میں کتنی برکت ہے اور کتنی طاقت ہے ، حتی کہ یہی وہ چیز ہے جو خدا کی قضا وقد ر کا رستہ بھی بدل سکتی ہے۔یہ میرا اپنا قیاس نہیں بلکہ ہمارے مقدس آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کی باتیں ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: لايرد القضاء الا الدعا ۱۸۰ د یعنی دعا کو یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ خدا کی قضا وقد رکو بھی بدل دیتی ہے اور اس کے سوا کسی اور چیز کو یہ طاقت حاصل نہیں۔اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ خدا خود فرماتا ہے کہ:۔وَاللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِه یعنی خدا کو اس کے قانون کا غلام نہ سمجھو بلکہ وہ اپنی قضا قدر پر بھی غالب ہے۔یعنی بسا اوقات وہ