مضامین بشیر (جلد 2) — Page 294
مضامین بشیر ۲۹۴ اور عمل میں بھی ) تو خدا کے فضل سے جماعت کا مستقبل محفوظ ہو جاتا ہے۔پس اولاد کے لئے دعا کرنا بھی نہایت ضروری ہے اور اس کی طرف سے ہرگز غافل نہیں رہنا چاہئے۔اسی طرح بیوی کے واسطے دعا کرنا بھی ہمارا فرض ہے کیونکہ ایک تو وہ ہماری رفیقہ حیات ہے اور دوسرے اس کی آغوش میں قوم کے نو نہال پرورش پاتے ہیں۔اس کے واسطے یہ قرآنی دعا بہت خوب ہے کہ :۔رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامان یعنی اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کے معاملہ میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہمارے گھروں کو جنت کا ماحول عنایت کر کے ہمیں متقیوں کا امام بنا دے۔چونکہ انسان اپنے اہل وعیال کا نگران ہوتا ہے اس لئے لاز ما امام کا لفظ بیوی اور بچوں دونوں سے متعلق سمجھا جائے۔لہذا یہ دعا بھی ایک بہت جامع دعا ہے اور ہر مومن کو اس سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہئے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ قرآن شریف نے ایک دعا میں والدین اور اولادکو اکٹھا بیان کیا ہے اور دوسری دعا میں بیوی اور اولادکو جمع کر دیا ہے۔گویا اولاد کو دونوں کا مرکزی نقطہ رکھا ہے اور مستقبل کے لحاظ سے یہی درست ہے (۱۰) اس کے بعد ذاتی دعائیں ہیں خواہ یہ دعا ئیں ہماری ذات سے تعلق رکھتی ہوں یا ہمارے دوستوں اور عزیزوں سے یا ہمارے ہمسایوں وغیرہ سے یہ دعائیں بھی ضروری ہیں اور درحقیقت یہ بات انسانی فطرت کا حصہ ہے کہ وہ اپنے آقا و مولا کے آگے اپنی تمام ضرورتوں کے لئے ہاتھ پھیلائے اور حق بات ہے کہ اگر ہم خدا کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے تو اور کس کے سامنے پھیلائیں گے۔خود میرے آقا ( فداہ نفسی) نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے کہ : - لا ملجاء و لا منجاء مِنكَ إِلَّا الیک“ یعنی اے ہمارے خدا ہمارے لئے کوئی پناہ کی جگہ نہیں اور نہ کوئی مخلصی پانے کی راہ ہے، سوائے اس کے کہ ہم تیرے دروازے کا رخ کریں۔پس اپنی ہر ضرورت خدا سے مانگو اور ہر انعام خدا سے چاہو اور ہر تکلیف سے نجات کا رستہ خدا میں ڈھونڈو۔کاش دنیا جانتی کہ ہمارے خدا کی قدرت کتنی زبر دست اور اس کی رحمت کتنی وسیع ہے۔میرا دل ایک عجیب قسم کی کیفیت محسوس کرتا ہے اور میری زبان تسبیح وتحمید کے ذکر سے تر ہونے لگتی ہے جب میں حدیث میں خدا کا یہ قول پڑھتا ہوں کہ اگر میرے سارے بندے ہی نیک اور دیندار ہو جائیں تو پھر میں دنیا میں بعض گنہگار لوگ پیدا کروں۔تا کہ میری رحمت اور میری مغفرت انہیں معاف کر کے اپنی شان ترحم کا اظہار کر سکے۔اس حدیث کے خواہ کچھ معنے ہوں مگر اس میں شبہ نہیں کہ ہمارا خدا دولت کا ایک بے انتہا خزانہ ہے اور اس سے غافل رہنے سے بڑھ کر کوئی محرومی نہیں مگر ذاتی دعاؤں میں بھی یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہئے کہ بہر حال