مضامین بشیر (جلد 2) — Page 292
مضامین بشیر ۲۹۲ علیہ السلام پر درود بھیجنے کا التزام بھی نہایت ضروری ہے۔(۴) چوتھی دعا جس کے متعلق میرے خیال میں التزام ضروری ہے وہ اپنی زبان میں اسلام اور احمدیت کی ترقی کی دعا ہے۔درود کی دعا عربی میں ہے اور بالواسطہ ہے۔مگر انسانی فطرت اپنی زبان میں براہ راست دعا کا تقاضا بھی کرتی ہے جس کے بغیر عام لوگوں کے دل میں پوری توجہ پیدا نہیں ہو سکتی۔پس ضروری ہے کہ ہم اپنی روزمرہ کی دعاؤں میں درود کے علاوہ بھی اسلام اور احمدیت کی ترقی کی دعاؤں کو شامل کریں تا کہ اسلام کے رستہ میں جو روکیں ہیں خدا انہیں دور فرمائے اور اپنے فضل وکرم سے اس کی ترقی کے سامان پیدا کرے اور اس ترقی کی جد و جہد میں ہمیں بھی حصہ لینے کی توفیق دے۔جہاں تک قومی دعاؤں کا تعلق ہے عربی میں درود کے علاوہ سورۃ بقرہ رکوع نمبر ۵ اور بقرہ رکوع نمبر ۴۰ اور آل عمران رکوع نمبر ۱۵ اور آل عمران رکوع نمبر ۲۰ اور فرقان رکوع نمبر ۶ کی دعا ئیں بہت مبارک ہیں اور اپنی زبان میں تو جس طرح بھی کسی کو پسند ہو دعائیں مانگے۔(۵) پانچویں دعا جو ہماری روز مرہ کی دعاؤں میں لازماً شامل ہونی چاہئے وہ خلیفہ وقت یعنی حضرت امیر المؤمنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے متعلق دعا ہے۔وہ بھی دراصل ایک قومی اور دینی دعا ہے اور اس میں ان احسانوں کے شکرانہ کا پہلو بھی شامل ہے جو حضور کی ذات سے جماعت کو پہنچ چکے ہیں یا پہنچ رہے ہیں وقال الله تعالى لَئِن شَكَرُ تُم لَا زِيدَنَّكُمُ۔حضور کی صحت کے لئے درازی عمر کے لئے حضور کے کاموں میں خدا کی نصرت اور برکت کے لئے اور حضور کے ارادوں میں کامیابی کے لئے لازما دعا ہونی چاہئے۔یہ ایک بھاری جماعتی فرض ہے جو ہر احمدی پر عائد ہوتا ہے۔(۶) چھٹی دعا حضرت ام المؤمنین اطال اللہ ظلہا کے متعلق ہے جس کی اہمیت کے سمجھنے کے لئے یہی کافی ہے کہ جیسا کہ تذکرہ کے مطالعہ سے ثابت ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی دعاؤں میں حضرت ام المؤمنین کو بہت بھاری حصہ عطا فرمایا ہے اور ویسے بھی وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے قریب ترین پہلوؤں کی واحد یادگار ہیں اور ان کے وجود کے ساتھ جماعت کے لئے بہت سی برکتیں وابستہ ہیں۔(۷) ساتویں دعا جماعت کے ان کارکنوں کے لئے ہونی چاہئے جو قولاً یا عملاً اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔مثلاً سلسلہ کے مبلغین اور دوسرے مرکزی یا مقامی کارکن خواہ وہ صدرانجمن احمدیہ کے کارکن ہیں یا تحریک جدید کے۔ایسی دعا بھی دراصل جماعتی دعا ہے اور اس میں شکرانہ کا پہلو بھی شامل ہے اور جو شخص اپنی دعاؤں میں سلسلہ کے کارکنوں کو بھولتا ہے وہ ایک فرض شناس احمدی نہیں سمجھا جا سکتا۔اسی طرح بیرونی مبلغوں اور دوسرے کارکنوں کے اہل وعیال کے