مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 284 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 284

مضامین بشیر ۲۸۴ لے جائے گا اور میں جو تیرا قادر و رحیم خدا ہوں تیری مدد کے لئے اپنی فوجوں کے ساتھ اچانک آؤں گا اور میری نصرت تجھے ضرور پہنچے گی۔میں اپنے بندوں پر وسیع رحمت کرنے والا خدا ہوں اور تمام بزرگی اور غلبہ میرے ہاتھ میں ہے اس الہام میں جوان اور کراڈی کے الفاظ ہیں وہ عربی محاورہ کے مطابق گویا قسم کے قائم مقام ہوتے ہیں۔اور فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرآن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض وغایت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے گویا مطلب یہ ہے کہ ہمیں تیری بعثت کی قسم ہے کہ ہم تجھے ضرور ضرور تیرے معاد کی طرف واپس لے جائیں گے۔یعنی جس طرح تیری بعثت ایک عظیم الشان خدائی تقدیر ہے اسی طرح تیرا قادیان واپس جانا بھی خدا کی ایک ایسی تقدیر ہے جو کبھی نہیں ملے گی اور یہ جو معاد کو نکرہ کی صورت میں رکھا گیا ہے ، حالانکہ بظاہر قادیان کی طرف اشارہ کرنے کے لئے معرفہ کی صورت میں المعاد ہونا چاہئے تھا، اس میں یہ اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس کے بعد قادیان ایک دائمی اور عظیم الشان معاد یعنی بار بار لوٹنے والی جگہ یعنی بالفاظ دیگر مرکز کی صورت اختیار کر لے گا۔جس کی طرف دنیا بھر کی قو میں تا قیامت رجوع کرتی رہیں گی۔چنانچہ قرآن شریف میں بھی اسی مصلحت کے ماتحت اس لفظ کونکرہ رکھا گیا ہے۔واللہ اعلم (۵) یہ وہ واپسی ہے۔جسے خدا تعالیٰ نے اپنے دوسرے الہاموں میں کئی دفعہ فتح کے لفظ یاد کیا ہے۔یعنی ایسی واپسی جس میں سب تاریکیاں دور ہو جائیں گی اور ساری سہولتوں کے دروازے کھل جائیں گے اور ایک کامل غلبہ کی صورت پیدا ہو جائے گی۔فتح والے الہامات بہت کثرت کے ساتھ ہیں مگر اس جگہ صرف ایک حوالہ پر اکتفا کیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرماتا ہے : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِيَغْفِرَلَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ۱۶۲ ނ یعنی ہم تیری مشکلات کے دور کے بعد تجھے کھلی کھلی فتح عطا فرمائیں گے اور جو مکروہات اور شدائد درمیان میں پیش آنے والے ہیں وہ اس لئے ہوں گے کہ تا خدا تیری یعنی تیری جماعت کی پہلی اور پچھلی غلطیوں کو معاف فرمائے یعنی یہ درمیانی تکالیف اس لئے آئیں گی کہ تاوہ موجب ترقی و مغفرت خطایا ہوں۔(۶) اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت پر آنے والے مختلف دوروں کو یکجائی طور پر بیان کرتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے: أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ۔۔۔۔۔قَولُ الْحَقِ الَّذِي فِيْهِ تَمْتَرُونَ ۶۳