مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 268 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 268

مضامین بشیر ۲۶۸ حضرت میر محمد الحق صاحب مرحوم و مغفور کی وصیت حضرت میر محمد اسحق صاحب مرحوم کو جب ناک کے رستہ دماغ میں پانی جانے کی بیماری کا آغاز ہوا تو وہ اس کے علاج کے لئے لاہور تشریف لائے اور میاں غلام محمد صاحب اختر کے مکان پر قیام کیا۔ان دنوں میں حضرت میر صاحب مرحوم نے ایک وصیت لکھی تھی جو اتفاق سے اب قادیان کے کا غذات میں سے دستیاب ہوئی ہے۔یہ وصیت میر صاحب مرحوم کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے جسے میں پہچانتا ہوں۔اور گو پنسل سے لکھی ہوئی ہے مگر اس وقت تک اس کے سب الفاظ اور حروف اچھی طرح پڑھے جاتے ہیں بالآخر حضرت میر صاحب نے چار سال بعد اسی بیماری سے قادیان میں وفات پائی اور اپنی خواہش کے مطابق مقبرہ بہشتی میں دفن ہوئے۔اللَّهُمَّ ارْحَمُهُ فِي أَعلَى عِلِييُن خاکسار :۔مرزا بشیر احمد رتن باغ لاہور ,, وصیت : الحمد للہ اس وقت میرے ہوش وحواس قائم ہیں اشهد ان لا اله الا الله واحده لا شريك له واشهد ان محمداً عبده ورسوله مجھے دلی یقین کے ساتھ زبان سے اس امر کا اقرار ہے کہ اس وقت صرف مذہب اسلام موجب نجات ہے میں چھ ارکان پر ایمان رکھتا ہوں۔پانچ بناء اسلام کا قائل ہوں میں سنی، شیعہ یا خوارج میں سے نہیں غیر مقلد ہوں۔آئمہ اربعہ میں سے کسی کا مقلد نہیں گو چاروں کا خاک پا ہوں۔اول قرآن پھر تو اتر پھر حدیث کو حجت سمجھتا ہوں۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کے تمام دعاوی پر ایمان رکھتا ہوں مبائع ہوں غیر مبائع نہیں۔نورالدین کو ابوبکر کا اور موجودہ امام جماعت احمدی کو عمر کا مثیل سمجھتا ہوں۔مجھے یقین ہے کہ ہماری جماعت تبھی صحیح معنوں میں احمدی رہ سکتی ہے جبکہ وہ ایک واجب الاطاعت امام کے ہاتھ پر بیعت کرے۔خلیفہ وقت کے ماتحت ایک انجمن ضرور انتظامی اور مالی معاملات کے لئے ہونی چاہئے۔قادیان کو خدا کے رسول کا پایہ تخت اور احمدیت کا ابدی مرکز یقین کرتا ہوں بہشتی مقبرہ کو واقعہ میں بغیر کسی تاویل کے یقین بہشتیوں کا مدفن سمجھتا ہوں میں موصی