مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 267 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 267

۲۶۷ مضامین بشیر اپنی جمعہ کی نمازیں پڑھیں اور اسی میں ایک عید الاضح کے موقع پر الہامی خطبہ دیا۔وہ مینارہ جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدائی منشاء کے ماتحت ایک خاص علامت کو پورا کرنے کے لئے تعمیر کیا۔وہ بیت الدعا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں خدا کے حضور اپنی خاص دعائیں پیش کرنے کے لئے اپنے مکان کے ایک حصہ میں بنائی۔وہ باغ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زلزلہ کے ایام میں تین مہینے جا کر ٹھہرے اور اس میں کئی دفعہ اپنے دوستوں کو اپنے ساتھ لے جا کر پھل کی دعوت دی۔اور اس میں ہماری بہت سی عید میں اور جنازے ہوئے اور اسی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا جنازہ بھی پڑھا گیا۔اور اسی میں حضرت خلیفہ اسیح اول کی پہلی بیعت ہوئی۔اور بالآخر وہ مقدس مقبرہ جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدائی بشارتوں کے ماتحت بنیا درکھی اور اس میں حضور کا جسد خا کی دفن ہے۔یہ سب جگہیں وہ ہیں جن کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا براہ راست ذاتی واسطہ رہا ہے اور یہ خدا کا فضل ہے اور اس کی بندہ نوازی کہ اس نے اتنی بھاری تباہی کے باوجود ان ساری جگہوں کو اپنے خاص فضل سے محفوظ رکھا ہے اور اب بھی جبکہ سارا مشرقی پنجاب مسلمانوں سے خالی ہو چکا ہے ، ہمارے یہ مقدس مقامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خدام اور درویشوں سے آباد ہیں۔میں پھر کہتا ہوں کہ : ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ O۔مجھے تو یوں نظر آتا ہے کہ کسی خدائی تقدیر کے ماتحت ایک عمارت کو آگ لگی اور بظاہر سب کچھ جل کر خاک ہو گیا۔مگر اس گھر کے اندر پڑی ہوئی بعض مقدس چیزوں کو خدا کے فرشتوں نے اپنے ہاتھوں میں محفوظ کر لیا۔کل کو کیا ہو گا یہ خدا جانتا ہے ہمیں اس بحث میں جانے کی ضرورت نہیں۔ہمارے لئے خدا نے اتنی میٹھی قاشیں مہیا کر رکھی ہیں کہ اگر ایک آدھ اور تلخ قاش بھی کھانی پڑے تو ہمارے دل یقیناً پھر بھی اس کے شکر گزار رہیں گے اور ہم یہ بھی جانتے اور یقین رکھتے ہیں کہ اگر کسی دشمن نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس وسط باغ پر ہاتھ ڈالا تو خدا کے اس وعدہ کا وقت بھی جلد تر آ جائے گا۔جس کی آئینہ کمالات اسلام والے رویا میں خبر دی گئی ہے ولا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم (۴) میری طرف سے سب دوستوں کو سلام پہنچا دیں اور دعا کے لئے تحریک کریں۔اللہ تعالیٰ آپ سب کے ساتھ ہو اور حافظ و ناصر رہے اور اس روحانی مقصد کو پورا فرمائے ، جس کے لئے آپ لوگ گویا دنیا سے کٹ کر قادیان میں درویشانہ زندگی گزار رہے ہیں۔آمین فقط۔مطبوعه الفضل ۱۹؍جون ۱۹۴۸ء)