مضامین بشیر (جلد 2) — Page 251
۲۵۱ مضامین بشیر ہر اس قوم پر عائد ہوتی ہے جسے دنیا میں حکومت اور طاقت کا ورثہ ملتا ہے۔اس وقت مغربی پنجاب میں بھی ایک وزارتی تبدیلی ہوئی ہے اور میں اس جگہ صوبہ کی نئی وزارت کو ایک اصولی مشورہ دینا چاہتا ہوں۔جو اس کی ذمہ داری کے پہلو سے تعلق رکھتا ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ میرا یہ مخلصانہ مشورہ ہمارے نئے وزیروں میں کیا رد عمل پیدا کرے گا۔یہ معاملہ ان کے ضمیر اور ان کے احساس ذمہ داری کے ساتھ تعلق رکھتا ہے مگر بہر حال اس معاملہ میں جو مشورہ مجھے مفید نظر آتا ہے اور وہ میرے خیال میں ہماری مقدس کتاب یعنی قرآن کریم سے ثابت ہے وہ میں نہائت مختصر الفاظ میں اور اپنے آپ کو صرف اصول کی حد تک محدود رکھتے ہوئے پیش کر دینا چاہتا ہوں۔آگے ماننا یا نہ ماننا ہمارے معزز وزراء کا کام ہے۔وما التوفيق الا بالله العظيم - قرآن شریف فرماتا ہے اور کن مقدس اور زور دار الفاظ میں فرماتا ہے کہ:۔۴۲ إنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ یعنی اے مسلما نو اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ حکومت کے عہدوں کی امانتیں ان لوگوں کے سپرد کیا کرو جو اس کے اہل ہیں۔اور پھر اے وہ لوگو جنہیں حکومت کی امانت سپرد ہو تمہیں ہمارا یہ حکم ہے کہ اپنے سب کاموں میں عدل پر قائم رہو۔اور عدل کے رستہ سے کبھی ادھر ادھر نہ ہونا۔اس آیت کریمہ میں جو امانت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اس کی تشریح آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث میں یوں بیان ہوئی ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔یا ابا ذر انک ضعیف و انها امانة وانها يوم القيامة خزى وندامة الامن اخذها يحقها وادى الذى عليه فيها۔الله - ۴۳ 66 یعنی جب ابو ذر صحابی نے آنحضرت ﷺ سے ایک عہدہ کی درخواست کی تو آپ نے انکے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اے ابوذر تم ایک کمزور انسان ہو۔اور یہ حکومت کا عہدہ ایک امانت ہے۔اور وہ قیامت کے دن ہر شخص کے لئے ذلت اور ندامت کا موجب ہو گا۔سوائے اس شخص کے جسے وہ اہمیت کی بناء پر سپر د کیا گیا ہو۔اور پھر وہ اس کا حق ادا کرے۔“ بہر حال حکومت کے عہدوں کے متعلق یہ ایک نہایت زریں ہدایت ہے جو خدا کا کلام ہمیں اس معاملہ میں دیتا ہے۔اور جیسا کہ قرآن شریف کا طریق ہے وہ الفاظ تو مختصر استعمال کرتا ہے مگران الفاظ کے پیچھے معانی کا ایک وسیع خزا نہ مخفی ہوتا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس قرآنی آیت میں امانت اور عدل کے مختصر سے الفاظ میں ایک ایسا وسیع مضمون بھر دیا گیا ہے کہ اگر اس معاملہ