مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 227 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 227

۲۲۷ مضامین بشیر ہیں نہیں سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں ہوئے۔اور لاکھوں دیکھنے والوں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔مگر اپنی قوم کے ان انتہائی وحشیانہ افعال کے باوجود کسی برادر وطن کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ان افعال سے برأت اور نفرت کا اظہار کرے۔گویا قومیت کا جذبہ انسانیت پر بھی غالب آ گیا اور شرافت پر درندگی نے فتح پالی۔ہمارے مقدس آقا کا مقدس ارشاد ہمارے مقدس آقا صلے اللہ علیہ وسلم کا یہ کس قدر پاک اسوہ ہے کہ آپ ہر فوجی دستہ کو حملہ آوروں۔کے خلاف بھجواتے ہوئے تکرار اور اصرار کے ساتھ یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ :- ”دیکھو تمہیں جس قوم کے خلاف بھی لڑنے کا موقع پیش آئے۔اس کے متعلق اس اصول کو ہرگز نہ بھولنا کہ عورتوں اور بچوں کے خلاف ہاتھ نہ اٹھایا جائے۔بوڑھے اور بیمار مردوں پر وار نہ کیا جائے۔وہ لوگ جو اپنی زندگیاں مذہب کی خدمت کے لئے وقف رکھتے ہیں خواہ یہ مذہب کوئی ہو ، انہیں اپنے حملہ کا نشانہ نہ بنایا جائے اور جو شخص تم پر حملہ کرنے کے لئے بڑھتا ہے۔اس کے متعلق بھی یہ احتیاط رکھو کہ تمہارے دفاعی وار سے اس کے چہرہ پر زخم نہ آئے۔اور دیکھو مقتولوں کے اعضاء کو ہرگز نہ کاٹا کرو۔اور غیر مسلموں کی عبادتگاہوں کو کسی صورت میں بھی نقصان نہ پہنچاؤ۔یہ وہ پاک نصیحت ہے جو ہمارے مقدس آقا نے اپنے مغربی پنجاب کے غلاموں کو تیرہ سوسال پہلے سے دے رکھی ہے۔اگر باوجود اس کے کسی مسلمان کہلانے والے نے اس حکم کو تو ڑا ہے تو اس کی ذات اس خلاف ورزی کی ذمہ دار ہے۔اور دوسرے مسلمانوں کو اس کے فعل سے بیزاری کا اظہار کرنا چاہئے۔لیکن جو کچھ مشرقی پنجاب میں ہوا ہے ، وہ ہم سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔بچوں کو ان کی روتی چلاتی ماؤں کے سامنے قتل کیا گیا۔ماؤں کو ان کے سہمے ہوئے بچوں کے سامنے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔بوڑھے اور بیمار مردوں کو انتہائی درندگی کے ساتھ ذبح کیا گیا۔مذہب کی خدمت کے لئے اپنی زندگیاں وقف رکھنے والے لوگوں کو وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔مساجد کو مسمار کیا گیا۔عورتوں کو اغواء کیا گیا اور قتل و غارت اور لوٹ مار میں وہ وہ ظالمانہ طریق اختیار کئے گئے کہ انسانیت ان کے تصور سے شرماتی ہے۔وقت گزر گیا ہے۔زخم بھی غالباً کچھ عرصہ کے بعد مندمل ہو جائیں گے مگر یہ تلخ یا د ہمیشہ زندہ رہے گی کہ ایک انسان دوسرے انسان کے خلاف درندگی کے کس ادنی ترین گڑھے