مضامین بشیر (جلد 2) — Page 12
مضامین بشیر ۱۲ ہندوستان کی سیاسی الجھن رات کی بے خوابی میں بستر پر کا تیل چند دن ہوئے ایک رات مجھے درد نقرس کی زیادہ تکلیف محسوس ہو رہی تھی جس کے ساتھ کافی بے چینی بھی تھی اور میں ایک منٹ کے لئے بھی سو نہیں سکا۔پہلے تو میں بستر میں پڑے پڑے آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرتا رہا۔لیکن جب اس کوشش میں ناکام رہا تو میں نے پاس کی میز پر سے ایک اٹلس اٹھائی اور ہندوستان کا نقشہ سامنے رکھ کر ہندوستان کی موجودہ سیاسی الجھن کے متعلق غور کرنے لگا۔اس سوچ نے شروع میں تو میری جسمانی بے چینی کے ساتھ ساتھ دماغی بے چینی کا بھی اضافہ کر دیا۔مگر بالآخر میں اس نئے مشغلہ میں ایسا کھویا گیا کہ نقرس کی تکلیف عملاً بھول گئی اور میں ایک ناخواندہ سیاستدان کے طور پر ( ناخواندہ اس لئے کہ سیاسیات کا مضمون کبھی بھی میری خاص سٹڈی نہیں ہوا بلکہ میں نے اسے اکثر مذہبی توجہ میں انتشار کا موجب پایا ہے۔سوائے اس کے کہ سیاسیات کا کوئی حصہ براہ راست مذہب پر اثر انداز ہوتا ہو ) ہندوستان کی موجودہ سیاسی الجھن کے متعلق مختلف قسم کے حل سوچنے لگا۔میں اپنے اس رات کے افکار کو ذیل کے چند مختصر فقروں میں سپرد قلم کرتا ہوں مگر یاد رہے کہ یہ تخیلات میرے ذاتی ہیں ، انہیں لازماً ہر تفصیل میں جماعت کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔(1) سب سے پہلے میں نے خیال کیا کہ ہماری جماعت ایک مذہبی اور تبلیغی جماعت ہے اور گو خدا کے فضل سے اس کے ہاتھ پر ہر قسم کی فتوحات مقدر ہیں۔مگر کم از کم شروع میں ہماری فتوحات کا رستہ نوے فیصدی تبلیغ کے میدان سے ہو کر گزرتا ہے۔پس ہمارا سب سے پہلا اور مقدم فرض یہ ہے کہ مستقبل کے ہندوستان میں مذہبی آزادی کے دروازہ کو زیادہ سے زیادہ کھلا کرنے کی کوشش کریں۔اور اس کے لئے تین باتیں ضروری ہیں :- (الف) ضمیر کی آزادی یعنی انسان جو مذہب بھی اپنے لئے پسند کرے۔اسے اس کا کھلم کھلا اعتراف کرنے کی آزادی حاصل ہو۔(ب) مافی الضمیر کے اظہار کی آزادی یعنی ہر انسان کو اپنے مذہبی خیالات کو دوسروں تک پہنچانے اور تقریر و تحریر کے ذریعہ اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق