مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 223 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 223

۲۲۳ مضامین بشیر جائے یا میرے ہاتھ سے قتل ہی ہو جائے لیکن ہر عقلمند کے نزدیک اور ہرمتمدن ملک کے قانون کے مطابق ظالم وہی شخص قرار پائے گا جو ظلم میں پہل کر کے مجھ پر حملہ آور ہوا ہے۔خواہ نقصان عملاً اسی نے زیادہ اٹھایا ہو۔یہی وجہ ہے کہ خود حفاظتی کے اصول کو جسے انگریزی میں Right of private defence کہتے ہیں ، ہر ملک اور ہر مذہب نے تسلیم کیا ہے۔بے شک عیسائی مذہب کی بعض تعلیمات اس کے خلاف نظر آتی ہیں۔مگر عیسائیت کی تعلیم کا یہ حصہ محض عارضی اور وقتی نوعیت رکھتا تھا اور مسیحی اقوام کا عملی رویہ ہمیشہ اس عارضی تعلیم کے خلاف اور مندرجہ بالا دائمی اصول کے مطابق رہا ہے۔سوگزشتہ قیامت خیز فسادات میں سب سے پہلی بات یہ دیکھنی ضروری ہوگی کہ اس خون خرابہ اور قتل و غارت اور لوٹ مار اور آبروریزی کے کھیل میں ابتدا کس فریق کی طرف سے ہوئی ہے۔جو قوم بادی ثابت ہو گی ، وہی یقیناً اظلم قرار پائے گی اور مسلمانوں کا دعویٰ ہے۔جس کی تائید میں وہ زبر دست دلائل رکھتے ہیں ( مگر یہاں ان دلائل کی بحث میں جانا میرا مقصد نہیں بلکہ صرف اصول بتا نا اصل غرض ہے ) کہ گذشتہ فسادات میں ابتدا یقینا سکھوں اور ہندوؤں کی طرف سے ہوئی ہے اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ابتداء بھی دو قسم کی ہوتی ہے، یعنی ایک تو قومی ابتداء ہوتی ہے اور دوسری فعلی اور عملی ابتداء ہوتی ہے اور حالات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ دونوں قسم کی ابتدا سکھوں اور ہندوؤں کی طرف سے ہوئی ہے اور جوں جوں زمانہ کے گزرنے اور طبائع کے جوشوں کے ٹھنڈا ہونے کے ساتھ تاریخ کے نقوش زیادہ معین اور زیادہ واضح ہوتے چلے جائیں گے۔توں توں یہ حقیقت بھی زیادہ روشن ہوتی چلی جائے گی کہ اس خونی ہولی میں پہل ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے ہوئی تھی نہ کہ مسلمانوں کی طرف سے۔جوابی کاروائی میں بھی معقول حد سے تجاوز کرنا جائز نہیں ( دوم ) دوسری بات یہ دیکھنے والی ہے کہ خواہ ابتداء کسی کی طرف سے ہو ، جب کوئی فریق اپنے جواب میں بھی اعتدال کی حد سے آگے نکل جاتا ہے۔یعنی جتنا خطرہ اسے دوسرے فریق کی طرف سے پیدا ہوتا ہے۔یا جس قسم کا حملہ اس کے خلاف کیا جاتا ہے۔وہ اس کے جواب میں خطرہ اور حملہ کے تناسب سے تجاوز کر کے اپنی جوابی کارروائی کو انتہائی درجہ ظالمانہ رنگ دے دیتا ہے تو اس صورت میں یہ بظا ہر دفاع کرنے والا شخص بھی ظالم بن جاتا ہے۔مثلاً ایک شخص ایک پتلی سی چھڑی لے کر آ پر حملہ کرنے کے لئے بڑھتا ہے اور آپ اس کے اس خفیف سے حملہ کو جس سے آپ کی جان کو کوئی حقیقی خطرہ پیدا نہیں ہوتا ، بہانہ بنا کر حملہ کرنے والے کو جواب میں قتل کر دیتے ہیں اور قتل بھی نہایت بے دردانہ رنگ میں ایذا اور عذاب کا طریق اختیار کر کے کرتے ہیں، تو ہر شخص یہی سمجھے گا اور یہی سمجھنے کا حق رکھتا