مضامین بشیر (جلد 2) — Page 222
مضامین بشیر ۲۲۲ کولوٹا اور دوسری طرف ہندو اور سکھ واویلا کر رہے ہیں کہ مغربی پنجاب میں یہی مظالم سکھوں اور ہندوؤں پر توڑے گئے اور آج نو مہینے ہو گئے کہ دونوں فریق کی طرف سے یہی شکایت دہرائی چلی جا رہی ہے مگر کوئی خدا کا بندہ اس بحث کو سلجھانے یا اس میں صحیح راستہ کی تعیین کرنیکی کوشش نہیں کرتا۔مسلمان واویلا کر رہا ہے کہ مسلمانوں پر ظلم ہوا اور سکھ اور ہند و شور مچا رہے ہیں کہ سکھوں اور ہندوؤں پر ظلم ہوا اور اگر سطحی نظر سے دیکھا جائے تو بظاہر یہ دونوں باتیں درست معلوم ہوتی ہیں۔کیونکہ اس بات میں کیا شبہ ہے کہ مشرقی پنجاب میں مسلمان لوٹے اور مارے گئے اور مغربی پنجاب میں سکھوں اور ہندوؤں نے نقصان اٹھایا۔مگر اس سطحی نظارہ سے آگے گزر کر کوئی شخص اس بات کے سوچنے کے لئے تیار نظر نہیں آتا کہ اس ظلم کی اصل ذمہ داری کس فریق پر ہے اور یہ کہ اس ذمہ داری کی تعیین کا منصفانہ طریق کیا ہے بے شک بعض لوگوں نے اس سوال کو صاف کرنے کی کوشش کی ہے مگر ان کی تقریروں اور تحریروں میں بھی وہ تفصیلی تجزیہ نہیں پایا جاتا جو اس بحث میں صحیح اور صاف صاف نتیجہ تک پہونچنے کے لئے ضروری ہے۔یہ درست ہے کہ اس قسم کی بحثوں کا خاتمہ تو کبھی بھی نہیں ہوا کرتا اور ہر فریق کا ضدی طبقہ میں نہ مانوں کے اصول کے ماتحت ہر حال میں اپنی بات دہراتا چلا جاتا ہے۔مگر صحیح اصول اختیار کرنے سے قوم کا وہ حصہ جو منصفانہ جذبات رکھتا ہے، سمجھ جاتا ہے کہ حقیقت کیا ہے اور کم از کم غیر جانبدرار لوگوں کو صحیح رائے قائم کرنے کا موقع میسر آجاتا ہے اور یہی ایسی بحثوں کا اصل فائدہ ہوا کرتا ہے۔" اب جہاں تک میں نے اس معاملہ میں سوچا ہے گزشتہ فسادات کی اصل ذمہ داری معین کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم چند مسلمہ بنیادی اصولوں کی تعیین کرنے کے بعد اس بحث میں داخل ہوں۔یعنی پہلے اصول قائم کریں اور پھر ان اصولوں کی روشنی میں ذمہ داری معین کرنے کی کوشش کریں اور یہ اصول میرے نزدیک اور ہر غیر متعصب شخص کے نزدیک مندرجہ ذیل ہونے چاہئیں :۔پہل کرنے والا زیادہ ظالم ہوتا ہے (اول ) سب سے پہلی بات جو اس قسم کی بحثوں میں صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لئے ضروری ہے۔وہ یہ ہے کہ اس بات کو دیکھا جائے کہ فسادات میں آغا ز کس فریق کی طرف سے ہوا ہے۔عربی میں ایک مشہور قول ہے کہ البادی الظلم یعنی پہل کرنے والا زیادہ ظالم ہوتا ہے ظاہر ہے کہ اگر مجھ پر کوئی شخص حملہ کرنے آجائے تو میں اگر بے غیرت اور بزدل نہیں ہوں تو اپنی جان یا مال یا عزت کی حفاظت کے لئے مقابلہ کروں گا اور بالکل ممکن ہے کہ اس مقابلہ میں حملہ کرنے والا شخص زیادہ چوٹ کھا