مضامین بشیر (جلد 2) — Page 217
۲۱۷ مضامین بشیر کے حکم سے نافرمانی کی۔تو کیا اے لوگو تم مجھے چھوڑ کر اس ہستی اور اس کی نسل کو اپنا دوست بناؤ گے؟ حالانکہ یہ ہستیاں تمہاری دشمن ہیں جو لوگ ایسا کریں گے۔وہ خدا کے مقابلہ پر بہت بری رفاقت اختیار کرنے والے ہوں گے“ (۵) سورۃ طہ رکوع نمبرے میں فرماتا ہے : ” جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم آدم کے فرمانبردار ہو جاؤ تو انہوں نے فرمانبرداری اختیار کی۔مگر ابلیس نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہم نے کہا۔اے آدم یہ تیرا اور تیری زوج کا دشمن ہے۔پس ہوشیار رہنا کہ وہ تمہیں تمہارے مقام جنت سے نکال نہ دے اور پھر تم تکلیف میں مبتلا ہو جاؤ۔“۔(1) سورۃ حجر رکوع نمبر ۳ میں فرماتا ہے : "ہم نے انسان کو بولنے والی تیار کی ہوئی مٹی سے بنایا۔اور ہم اس سے پہلے جان ( یعنی جنوں ) کولو والی آگ سے بنا چکے تھے اور جب خدا نے فرشتوں سے یہ کہا۔کہ میں ایک بولنے والی تیار کی ہوئی مٹی سے ایک بشر پیدا کر نے والا ہوں۔جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونکوں تو تم اس کے سامنے فرمانبردار ہوتے ہوئے جھک جانا۔اس پر سب کے سب فرشتوں نے فرمانبرداری اختیار کی مگر ابلیس نے نہ کی۔اُس نے فرمانبرداروں میں ہونے سے انکار کر دیا۔خدا نے کہا اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو نے آدم کی فرمانبرداری اختیار نہ کی۔ابلیس نے کہا یہ نہیں ہو سکتا کہ میں اس بشر کا فرمانبردار ہوں۔جسے تو نے آواز دینے والی تیار کی ہوئی مٹی سے بنایا ہے خدا نے فرمایا یہاں سے نکل جا تو دھتکارا ہوا ہے اور تجھ پر جزا سزا کے دن تک لعنت ہے۔ابلیس نے کہا میرے خدا مجھے یوم بعث تک مہلت دیجئے۔خدا نے فرمایا تجھے وقت معلوم تک مہلت دی گئی۔ابلیس نے کہا اے خدا جب تو نے مجھے گمراہ شدہ قرار دیا ہے تو اب میں انسانوں کے لئے دنیا میں مختلف قسم کی زیب و زینوں کے سامان بناؤں گا اور ان سب کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔خدا نے فرمایا یہی اخلاص کا رستہ تو میری طرف آنے کا سیدھا رستہ ہے۔رب رب فداک نفسی اجعلني منھم۔وہ جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے غلبہ حاصل نہیں ہوگا۔سوائے اس کے کہ گمراہ ہونے والوں میں سے کوئی شخص خود تیری پیروی اختیار