مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 203 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 203

۲۰۳ مضامین بشیر جمع بین الصلاتین کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی ایک شہادت مولوی محمد دین صاحب بی۔اے سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان نے جمع بین الصلاتین کے متعلق ایک شہادت لکھ کر بھیجی ہے جو دوستوں کے فائدہ کے لئے ذیل میں درج کی جارہی ہے۔مولوی صاحب موصوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں سال ہا سال قادیان میں رہ چکے ہیں انہوں نے اپنی شہادت میں اس زمانہ کا ذکر کیا ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قادیان میں ایک لمبے عرصہ تک مسلسل نمازیں جمع کرائیں مولوی صاحب موصوف کی شہادت میں ایک بات کسی قدر قابل وضاحت ہے، جس کے متعلق میں انہیں خط لکھ رہا ہوں ،اس کا جواب آنے پر بعد میں شائع کر دیا جائے گا۔والسلام۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحَ الْمُوْعُودِ مکرمی و محترمی مرزا بشیر احمد صاحب سلمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک مسلسل عرصہ تک روزانہ نمازیں جمع ہوتی رہیں ظہر اور عصر اور مغرب وعشاء۔ان میں یہ عاجز باقاعدہ شامل ہوتا رہا اور چونکہ یہ مسئلہ اور تعامل لوگوں کے لئے نیا تھا اس لئے طبعی طور پر لوگ مسئلے کے طور پر اس کے متعلق جزئیات بطور مسئلہ کے دریافت کرتے رہتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی براہ راست اور حضرت خلیفہ المسیح اول اور دیگر علماء سلسلہ سے بھی۔مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ اس وقت تعامل یہی تھا کہ اگر کوئی عصر میں شامل ہوا ہے تو اس نے ظہر کی نما ز بعد میں پوری کر لی اور جو عشاء میں شامل ہوا تو اس نے مغرب کے فرض بعد میں ادا کر لئے اور جس کسی کو سوال وشبہ پید ا ہوا ، اس نے جب بھی حضرت صاحب سے دریافت کیا یا حضرت مولوی صاحب سے تو اس کو بھی یہی جواب دیا گیا کہ جو فرض جماعت ہے اس میں شامل ہو جاؤ اور جو رہ گئی ہوا سے بعد میں پوری کر لو۔چونکہ یہ تعامل اور مسئلہ نیا تھا اس لئے سوال واعتراضات بھی ہوتے رہے اور یہی بطور تعامل اور مسئلہ کا حل رہا۔مجھے تو تعجب آیا کہ مولوی شمس صاحب نے اپنی تحریر میں جو الفضل میں شائع ہوئی ہے یہ لکھا ہے کہ