مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 172 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 172

مضامین بشیر ۱۷۲ اے ابناء فارس! اسلامی طریق لباس سے کیا مراد ہے؟ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض تازہ خطبات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے نو جوانوں کو خصوصاً اور جماعت کے دوسرے نو جوانوں کو عموماً اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انہیں دنیا داری کے طریق کو ترک کر کے اپنے کاموں میں للہیت اور خدمت دین کا رنگ پیدا کرنا چاہئے۔اسی تعلق میں حضور نے ضمنی طور پر لباس کا بھی ذکر فر مایا تھا کہ جماعت کے نو جوانوں کو چاہیئے کہ اپنے لباس میں سادگی اختیار کریں اور اسلامی طریق زندگی کے کاربند ہوں۔اس پر بعض اصحاب نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ لباس کے معاملہ میں اسلامی طریق کیا ہے یعنی کس قسم کے لباس کو اسلامی لباس سمجھا جائے اور کس قسم کے لباس کو اسلامی لباس نہ سمجھا جائے۔چونکہ ممکن ہے کہ یہی سوال بعض دوسرے نو جوانوں کے دلوں میں بھی پیدا ہوتا ہو، اس لئے میں اخبار کے ذریعہ مختصر طور پر اس سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں۔تا کہ سوال کرنے والے نو جوانوں کے علا وہ دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھا سکیں۔وَرُبَّ مُبَلَّغِ أو على مِن سَامِعِ۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے جو اس قسم کے تمام مسائل میں گویا ایک بنیادی اصول کا رنگ رکھتی ہے کہ اسلام کسی خاص قوم یا خاص ملک یا خاص زمانہ کے لئے نہیں آیا۔بلکہ دنیا کی ساری قوموں اور سارے ملکوں اور سارے زمانوں کے لئے آیا ہے۔اس لئے اس قسم کے فروعی اور تمدنی امور میں اسلام کی طرف سے کوئی ایسی تفصیلی ہدایت نہیں دی گئی۔اور نہ عقلاً دی جانی چاہئے تھی کہ تم اس قسم کا لباس پہنو اور اس قسم کا لباس نہ پہنو۔لباس کا معاملہ ہر قوم کے تمدن اور ہر ملک کی جغرافیائی حالت اور ہر زمانہ کے اقتصادی ماحول کا نتیجہ ہوا کرتا ہے۔پس یہ ناممکن تھا کہ وہ مذہب جو خدا کی طرف سے عالمگیر پیغام لے کر آیا ہے۔اور ہر قوم اور ہر ملک اور ہر زمانہ کے واسطے شمع بر دار ہونے کا مدعی ہے۔وہ اس قسم کی تفصیلات میں دخل دے کر لوگوں کے واسطے رحمت بننے کی بجائے نا واجب تنگی کا باعث بن جاتا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف فرماتا ہے۔لَا تَنتَلُوا عَنْ اشْيَاءَ إِنْ تُبْدَلَكُمْ تَسُؤْكُمْ یعنی اے مسلمانوں ایسی باتوں کے متعلق سوال مت کیا کرو کہ اگر ان کے متعلق ٹھوس شرعی احکام نازل کر