مضامین بشیر (جلد 2) — Page 167
۱۶۷ مضامین بشیر ہے کہ اے خدا تیرے بنائے ہوئے قانون کے ماتحت جو ذرائع ضروری تھے وہ میں نے اختیار کر لئے ، اب میری کوشش میں جو خامی رہ گئی ہے اسے تو اپنے فضل سے پورا فرما دے۔اور قرآن شریف میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ جو لوگ خدا کے بنائے ہوئے اسباب کو اختیار کرنے کے بعد خدا سے دعا کرتے ہیں۔ان کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے أَجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِبْوَالِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ 10 یعنی میں دعا کرنے والے کی دعا کو ضرور قبول کرتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ لوگ مجھ پر ایمان لائیں اور میرے بتائے ہوئے احکام پر عمل کریں۔مکمل چار دیواری مجھے یقین ہے کہ اگر اس نئے قومی دور میں مسلمان ان پانچ طریقوں کو اختیار کریں جو میں نے اوپر بیان کئے ہیں۔یعنی (۱) علم (۲) محنت (۳) دیانت (۴) استقلال اور (۵) دعا تو وہ نہ صرف اپنے کاموں میں کامیاب ہو سکتے ہیں بلکہ انفرادی اور قومی لحاظ سے اتنی ترقی کر سکتے ہیں کہ ساری دنیا کے لئے ایک نمونہ بن جائیں۔جیسا کہ اسلام کے پہلے دور میں وہ نمونہ بنے۔مگر مشکل یہ ہے کہ اکثر لوگ منہ کی پھونکوں سے یا دل میں پیدا ہو کر ٹھٹھر جانے والی خواہش سے کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان راستوں کی طرف سے غافل رہتے ہیں جو ہمارے علیم و قدر خدا نے انسانی ترقی کے لئے پیدا کئے ہیں۔مجھے تو واقعی یوں نظر آتا ہے کہ گویا انسان کا وجود فرش اور زمین کے طور پر ہے۔اور یہ چار مادی ذرائع چار دیواروں کے قائمقام ہیں جو اس فرش پر قائم ہونی چاہئیں۔اور پھر دعا کا روحانی ذریعہ اس چار دیواری کے لئے بطور چھت کے ہے۔جس سے کہ گھر کی عمارت تعمیل کو پہنچتی ہے۔اور اس کے بعد کوئی رخنہ باقی نہیں رہتا۔کاش لوگ اس نکتہ کو سمجھیں اور انفرادی اور قومی جد وجہد میں حصہ لے کر اسلام کے جھنڈے کو ہر جہت سے بلند تر کرنے کی کوشش کریں۔بے شک یہ ایک خدائی تقدیر ہے جو بہر حال پوری ہو کر ہے گی۔کیونکہ خدا تعالیٰ خود اس زمانہ کے مرسل و مامور سے فرماتا ہے کہ:۔بخرام که وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد مگر کیا ہی خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جن کے ہاتھ سے یہ بظا ہرنگوں شدہ جھنڈا دوبارہ اونچا ہو گا۔و اخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین۔مطبوعه الفضل ۲۲ جنوری ۱۹۴۸ء)