مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 119 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 119

119 مضامین بشیر جائیدادیں اور سامان تو پھر بھی مل جائیں گے۔مگر مومنوں کی ضائع شدہ جانیں جو گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ کے لگائے ہوئے پودے ہیں پھر نہیں ملیں گے تو اب مجھے بتا ئیں کہ میں ان ہزاروں ننگ و ناموس رکھنے والی عورتوں کے متعلق جو قادیان میں موجود ہیں کروں تو کیا کروں؟ مال کے مقابل پر بے شک قیمتی جان بچائی جا سکتی ہے اور مومن کی جان واقعی بہت بڑی چیز ہے مگر کیا میں اپنی آنکھوں کے سامنے احمدی عورتوں کے ننگ و ناموس کو خطرہ میں ڈال دوں اور سامنے سے ہاتھ نہ اٹھاؤں؟ حضرت صاحب نے مجھے تسلی کا خط لکھا اور بعض ہدایتیں بھی دیں اور فرمایا کہ میں ان مشکلات کو سمجھتا ہوں مگر ادھر ہم زیادہ سے زیادہ ٹرک بھجوانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔( گو پاکستان حکومت کے پاس ٹرک محدود ہیں اور اس نے سارے مشرقی پنجاب میں سے مسلمانوں کو نکالنا ہے ) اور ادھر تم جس طرح بھی ہو ہر ٹرک میں زیادہ سے زیادہ عورتیں اور بچے لدوا کر انہیں جلد سے جلد باہر بھجوا دو اور جب عورتیں محفوظ ہو جائیں تو پھر باقی معاملہ جو ہماری طاقت سے باہر ہے۔خدا پر چھوڑ دو۔وَ لِلبَيتِ رَبُّ سَيَمْنَعُهُ۔اب ٹرکوں کا حال یہ تھا کہ قادیان میں دو قسم کے ٹرک پہنچتے تھے۔ایک وہ پرائیویٹ ٹرک جو بعض احمدی فوجی افسر اپنے اہل وعیال اور اپنے ذاتی سامان کو لے جانے کے لئے اپنے فوجی حق کی بنا پر حاصل کر کے قادیان لے جاتے تھے اور دوسرے وہ جماعتی ٹرک جو جماعتی کوشش سے جماعتی انتظام کے ماتحت حکومت کے حکم سے قادیان بھجوائے جاتے تھے۔جہاں تک پہلی قسم کے ٹرکوں کا سوال ہے ظاہر ہے کہ یہ ایک پرائیویٹ چیز تھی اور مجھے یا کسی اور کو اس میں دخل دینے کا حق نہیں تھا۔ان کے متعلق صدر صاحبان محلہ جات قادیان کو میری ہدایت صرف اس قدر تھی کہ اس بات کی نگرانی رکھیں کہ ان پرائیویٹ ٹرکوں کے اندر بیٹھ کر کوئی احمدی مرد بلا اجازت باہر نہ چلا جائے۔نیز یہ کہ پرائیویٹ ٹرک والے فوجی افسر سے پوچھ لیا کریں کہ کیا اس کے ٹرک میں کسی زائد سواری کی گنجائش ہے اور اگر گنجائش ہوا کرے تو مجھے بتا دیا کریں تا میں ایسے لڑکوں میں بھی زائد احمدی عورتیں بھجواسکوں اور اس طرح ہماری اسکیم کی جلد تر تکمیل میں مدد ملے۔چنانچہ ایسا ہوتا رہا اور جہاں تک ممکن تھا میں حکمت عملی اور سمجھوتہ کے طریق پر پرائیویٹ ٹرکوں میں بھی زائد عورتیں بھجوا تا رہا مگر ظاہر ہے کہ یہ ٹرک میرے کنٹرول میں نہیں تھے اور جہاں تک سامان کا تعلق ہے ان لڑکوں کے مالک جتنا سامان چاہتے تھے اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور میں اس میں دخل نہیں دے سکتا تھا اور میں جانتا ہوں کہ بعض ایسے پرائیویٹ ٹرک والوں نے اپنا سارے کا سارا سامان یا قریباً سارا سامان با ہر نکال لیا مگر یہ ان کا قانونی حق تھا جس میں میں دخل نہیں دے سکتا تھا۔البتہ دوسرے ٹرک جو جماعتی انتظام کے ماتحت