مضامین بشیر (جلد 2) — Page 100
مضامین بشیر میں دوبارہ پھنسنے کے لئے تیار نہیں۔” دوسرے حالات کے الفاظ کی ایک تشریح مقدس مقامات سے تعلق رکھتی ہے۔سو کیا ہندو اور سکھ اس بات کے لئے تیار ہوں گے کہ جس ترازو سے تول کر وہ اپنے حقوق لینا چاہتے ہیں۔اسی ترازو سے وہ مسلمانوں کو بھی ان کے حقوق دینے کے لئے تیار ہوں۔کیونکہ ظاہر ہے کہ مقدس مقامات صرف ہندوؤں سکھوں کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ مسلمانوں کے ساتھ بھی تعلق رکھتے ہیں۔گو یہ علیحدہ بات ہے کہ مسلمان اس معاملے میں زیادہ با وقار رہے ہیں۔اور انہوں نے حقیقی مقدس مقامات کے علاوہ دوسرے مقامات کو یونہی فرضی تقدس عطاء نہیں کیا اور بہر حال کون انصاف پسند شخص اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ دلی اور آگرہ اور اجمیر وغیرہ کو جو چوٹی کے مسلمان تاجداروں کی بے مثل یادگاروں سے مزین ہیں ، مسلمانوں کے نزدیک حقیقی تقدس حاصل ہے۔پس اگر اس دروازے کو کھولو گے تو پھر ہر قوم اس میں داخل ہونے کا حق رکھے گی۔سوائے اس کے کہ مسلمان اس بات میں ضرور دوسروں سے پیچھے رہیں گے کہ ان میں بمقابلہ بعض دوسری قوموں کے جو بعض اوقات رستے کے ایک درخت کو مقدس بنا لیتی ہیں ، صرف وہی مقدس مقامات سمجھے جاتے ہیں جو حقیقتا مقدس ہیں۔اسی طرح دوسرے حالات کے الفاظ کی اور بھی بہت سی تشریحیں ہو سکتی ہیں۔بہر حال یہ الفاظ اپنے اندر فتنہ کا پیج رکھتے ہیں اور یا تو انہیں ترک کر دینا چاہئے اور یا ان کی بحث میں جانے سے پہلے ساری قوموں کے مشورے کے ساتھ ان الفاظ کی تشریح ہو جانی چاہئے۔اور میرے خیال میں ایسی تشریح میں چارا مور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے :۔(اول) یہ کہ متعین طور پر فیصلہ کر دیا جائے کہ دوسرے حالات (other factors) میں یہ یہ باتیں شامل سمجھی جائیں گی ( دوم ) یہ کہ جو باتیں دوسرے حالات کی تشریح میں شامل سمجھی جائیں۔ان کی بھی آگے تشریح کر دی جائے۔مثلاً اگر مقدس مقامات کو دوسرے حالات میں شامل کیا جائے۔تو پھر اس بات کی بھی تشریح ضروری ہوگی کہ مقدس مقامات سے مراد کیا ہے؟ آیا ہر وہ جگہ جسے کوئی قوم اپنے منہ سے مقدس کہتی ہو مقدس ہو جائے گی یا کہ صرف مسلمہ اور معروف مذہبی بانیوں یا ممتاز قومی بادشا ہوں کی خاص یادگار میں مقدس قرار پائیں گی۔( سوم ) یہ کہ جو تشریح بھی ” دوسرے حالات کی قرار پائے وہ سب قوموں پر ایک جیسی صورت میں چسپاں کی جاوے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا بھی سب کے لئے یکساں دروازہ کھلا ہو۔(چہارم) یہ کہ اس بات کا بھی فیصلہ کیا جائے کہ اگر ایک مقام یعنی ایک شہر کو دو قوموں کے