مضامین بشیر (جلد 2) — Page 99
۹۹ مضامین بشیر ہوں گے کہ ان کا فائدہ مسلم اور غیر مسلم علاقے کو کس کس نسبت سے پہنچ رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔الغرض باؤنڈری کمیشن کے اختیارات بہت وسیع ہوں گے۔اور اس کے مقابل پر تیاری کی بھی بہت ضرورت ہے اور یہ تیاری تفصیلی رنگ میں دفتری نوعیت کی ہونی چاہئے۔جس کے لئے تمام تحصیلوں کے مسلمانوں کی فوری توجہ درکار ہے اور بعض صورتوں میں بین الاقوامی قانون اور بعض مشہور باؤنڈری کمیشنوں کی رپورٹوں کا مطالعہ بھی ضروری ہوگا۔ورنہ ستی اور غفلت سے ایسا نقصان پہنچ سکتا ہے جس کی تلافی بعد میں ناممکن ہوگی۔حکومت برطانیہ کے اعلان مجریہ ۲ / جون ۱۹۴۷ء کے فقرہ نمبر 9 میں یہ الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں کہ علاقوں کی تقسیم میں آبادی کے علاوہ دوسرے حالات (other factors) کو بھی دیکھا جائے گا۔یہ الفاظ ایسے مبہم بلکہ ایسے غیر مصلحتا نہ ہیں کہ معلوم نہیں کہ حکومت برطانیہ نے ان الفاظ کے استعمال میں کیا حکمت سوچی ہے۔کیونکہ در حقیقت یہ الفاظ ہندوستان کی مختلف قوموں کی طرف سے بھاری فتنہ کا ذریعہ بنائے جا سکتے ہیں۔ظاہر ہے کہ اگر آبادی کی کثرت اور قلت کے علاوہ دوسرے حالات کو بھی زیر غور لانا ہے تو اس کے نتیجے میں ہر قوم کی طرف سے ایسے مطالبات کا دروازہ کھل جائے گا کہ جسے بند کرنا یا جس کے متعلق تصفیہ کرنا نہ حکومت برطانیہ کے بس کی بات رہے گی۔اور نہ وائسرائے کی اور نہ کسی اور کی۔اور ممکن ہے کہ صرف اسی نقطہ پر آ کر ہی سب کیا کرا یا کھیل بگڑ جائے۔بہت سے ہندو اور سکھ ” دوسرے حالات کے الفاظ سے یہ مراد لے رہے ہیں کہ ان الفاظ سے ایک طرف تو جائیدادوں اور اموال کی طرف اشارہ مقصود ہے۔اور دوسری طرف مقدس مقامات کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ممکن ہے یہ قیاس درست ہو۔مگر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ بس صرف یہی مراد ہے اور اس کے سوا اور کوئی چیز مراد نہیں ؟ " بہر حال جہاں تک اموال اور جائیدادوں کا سوال ہے۔میں اپنے مضمون ” خالصہ ہوشیار باش میں اصولی طور پر بیان کر چکا ہوں کہ کوئی مسلمان بلکہ کوئی انصاف پسند شخص ایک منٹ کے لئے بھی یہ بات منظور نہیں کر سکتا کہ انسانی مساوات کے اصول کو ترک کر کے قوموں کے حقوق کو مال و دولت کے ترازو میں تولا جائے۔اور جو چیز صدیوں کی سازش کے نتیجے میں ہندوستان کے مسلمانوں سے چھینی گئی ہے، اسی پر آئندہ حقوق کی بنیا د رکھی جائے۔ہندوؤں نے ایک وسیع پروگرام کے ذریعہ جس کی تفصیل ایک تلخ کہانی ہے، مسلمانوں کو ہر قسم کی اقتصادی ترقی سے محروم کر رکھا تھا۔یہ عجیب کرشمہ سیاست ہے کہ اب ان کی اسی محرومی اور اپنی اسی غاصبانہ برتری کو آئندہ حقوق کے تصفیہ کی بنیاد بنایا جا رہا ہے۔یہ کوشش شرافت اور دیانت اور انسانیت کے لئے قابل شرم ہے اور مسلمان بھی اس پھندے