مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1054
مضامین بشیر ۱۰۵۴ مولوی نورالدین صاحب کی کیا بات ہے؟ اور اس طرح یہ حل شدہ مسئلہ دوبارہ حل ہو گیا۔مگر کیا حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی تعریف میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فرمانا کسی اور شہادت کی گنجائش چھوڑ تا ہے کہ : چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نوردیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے پھر خدا نے بھی آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد احمدیت کا پہلا خلیفہ منتخب کر کے صدیق ثانی کے منصب پر پر نوازا اور مرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلو میں جگہ عنایت کی۔میرا مضمون کچھ لمبا ہو گیا ہے۔اس لئے اب آخری واقعہ جو میری ذات سے تعلق رکھتا ہے، بیان کر کے اپنے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی حالت آخری بیماری میں نازک ہوئی اور بظاہر نا امیدی کی حالت پیدا ہوگئی تو مجھے لاہور سے تار کے ذریعہ بلایا گیا۔جہاں میں بی۔اے کے امتحان کی تیاری کے لئے آیا ہوا تھا۔میں جب قادیان گیا تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کی کوٹھی کے مردانہ کمرے میں بیمار پڑے ہوئے تھے اور کمزوری انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی۔میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔آپ نے سلام کا جواب دیتے ہوئے اپنا نحیف ہاتھ آگے بڑھا کر شفقت اور محبت کے ساتھ میرے سر پر رکھ دیا۔یہ جمعرات کا دن تھا اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے ساتھ میری یہ آخری ملاقات تھی کیونکہ دوسرے دن جمعہ کے روز آپ کی روح آسمانی آقا کے حضور پہنچ گئی اور جس بات کا مجھے آج تک دکھ ہے وہ یہ ہے کہ چونکہ ان ایام میں غیر مبایعی کا فتنہ انتہاء کو پہنچا ہوا تھا اور جماعت دو ٹکڑے ہوتی نظر آتی تھی۔اس لئے ہم لوگ ہر دوسری بات کی طرف سے خیال ہٹا کر کلیہ اس فتنہ کے سدباب کی طرف متوجہ ہو گئے تھے اور ہمارے اوقات کی ہر گھڑی اسی فکر اور اسی جد و جہد میں گزر رہی تھی جس کی وجہ سے میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آپ کا چہرہ تک نہیں دیکھ سکا۔جماعتی ضرورت کے ماتحت اس وقت یہی انہماک مقدم تھا مگر باوجود اس کے جذباتی رنگ میں میرے دل میں آج تک اس محرومی کا قلق ہے لیکن اب اس قلق کا علاج ( چوں علاج مے زمے ) اس کے سوا کچھ نہیں کہ زنده خواهی داشتن گرداغ ہائے سینہ را گاہے گاہے باز خواں آں قصہ پارینه را بالآخر میں اپنے عزیزوں اور دوستوں سے عرض کروں گا کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی سوانح عمری حیات نور الدین کا ضرور مطالعہ کریں۔جس کا بیشتر حصہ خود حضرت خلیفہ اول رضی اللہ