مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1034
مضامین بشیر ۱۰۳۴ اطال الله بقاءها حضرت ام المؤمنین کے لئے خاص دعاؤں کی تحریک حضرت امان جان ام المؤمنین اطال اللہ ظلہا کی صحت کچھ عرصہ سے بہت گر گئی ہے اور کمزوری دن بدن بڑھ رہی ہے۔بے شک عمر بھی زیادہ ہے کیونکہ اس وقت ان کی عمر قریباً پچاسی سال کی ہے وہ ۱۸۸۴ء میں اٹھارہ سال کی عمر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بیاہی گئی تھیں ) اور عمر کے نتیجہ میں صحت کا گرنا اور کمزوری کا بڑھنا ایک طبعی امر ہے لیکن گزشتہ چند ماہ سے حضرت امان جان کی صحت میں غیر معمولی فرق آیا ہے اور طبیعت زیادہ مفعمل رہنے لگ گئی ہے۔پس میں تمام مخلصین جماعت سے عرض کرتا ہوں کہ وہ حضرت ام المؤمنین اطال اللہ بقاءھا کی صحت اور درازی عمر کے لئے خصوصیت کے ساتھ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ اس مبارک تعویز کو ہمارے سروں پر تا دیر سلامت رکھے اور حضرت اماں جان کی برکتوں کے زمانہ کو جو حقیقہ بے نظیر ہیں۔ہمارے لئے لمبے سے لمبا کر دے آمین یا ارحم الرحمین۔میں بعض قرائن سے سمجھتا رہا ہوں کہ شائد اللہ تعالیٰ حضرت اماں جان کو کم و بیش بانوے سال کی عمر عطا کرے گا لیکن یہ محض قیاس ہے۔جس کی تائید میں میرے پاس کوئی یقینی دلیل نہیں ہے۔اور گزشتہ چند ماہ میں حضرت اماں جان کی صحت اس سرعت کے ساتھ گری ہے کہ میرے دل میں ڈر پیدا ہونے لگا ہے والامر بيد الله وهو المستعان و نرجوا من الله خيراً حضرت اماں جان اطال اللہ ظلھا کے وجود کی برکت اس بات سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق آج سے چودہ سو سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ اعلان فرمایا کہ: يتزوج ويولدله د یعنی مسیح موعود شادی کرے گا اور اس شادی سے اس کی اولا د بھی ہو گی۔“ اس حدیث کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صراحت فرمائی ہے کہ اس میں حضرت ام المؤمنین کی طرف اشارہ ہے۔پھر خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کر کے بھی خدا نے فرمایا کہ : اذْكُرُ نِعْمَتِي رَتَيْتُ خَدِيجَتِي۔و یعنی میری نعمت کو یا درکھ کہ تو نے میری موعودہ خدیجہ کو پالیا۔“ ۱۵۶ پس حقیقۂ حضرت ام المؤمنین کا مقام بہت ہی بلند اور آپ کا وجود بہت ہی مبارک ہے اور اس سے بڑھکر برکت کا کیا ثبوت ہوگا کہ خود خدا نے آپ کو اپنے پاک مسیح کے لئے چنا اور آپ کو نہ صرف