مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1009
10+9 مضامین بشیر کہ بیمہ کرانے والا شخص بیمہ کرانے کے بعد بیمہ کی مقررہ میعاد کے مقابل پر کتنی بھی عمر پا تا یا کتنی جلدی مرتا ہے اور دوسرے یہ کہ اسے بیمہ کمپنی کے مقررہ اصولوں کے ماتحت اپنی رقم پر کتنے سود کا حق پیدا ہوتا ہے۔ان دو اصولوں کے مطابق بیمہ کمپنی بیمہ کرانے والے شخص کے ورثاء کو ( یا خود اسکو یعنی جو بھی صورت ہو ) اس کی اختیار کردہ پالیسی کے ماتحت مقررہ رقم ادا کر دیتی ہے۔زندگی کے بیمہ کا یہ ایک نہائت مختصر سا اجمالی نقشہ ہے جس کے مطابق عموماً آجکل زندگی کے بیمے ہوتے ہیں اور اس انتظام کے ماتحت لوگ اس بات کے متعلق تسلی پا جاتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد یا ان کی اپنی زندگی میں جیسی بھی صورت ہو ان کے اہل وعیال دنیا میں بے سہارا نہیں رہیں گے بلکہ انہیں ان کی پسند کردہ پالیسی کے مطابق معقول رقم مل جائیگی جو بعض اوقات ان کی داخل کردہ رقم سے کافی زیادہ ہوتی ہے۔سواس کے متعلق یا د رکھنا چاہئے کہ اس میں شبہ نہیں کہ یہ انتظام اپنے اندر بعض خوبیاں رکھتا ہے اور وہ لوگ جو کوئی ایسی جائداد نہیں رکھتے جس سے ان کے بعد ان کے اہل وعیال کے گزارہ کے مطابق آمدن پیدا ہو سکے اس انتظام سے کافی فائدہ اٹھاتے ہیں۔اس لئے اس کے مفید ہونے سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن دوسری طرف ہما را عادل و امین مذہب اسلام تو اس حکیمانہ شان کا مذہب ہے کہ وہ شراب اور جوئے تک کو قطعی حرام قرار دینے کے باوجود ان کی بعض خوبیوں کو تسلیم کرتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے: يَتَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمُ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا ۱۴۳ یعنی اے رسول تجھ سے لوگ شراب اور جوئے کے متعلق دریافت کرتے ہیں تو ان سے کہہ دے کہ ان دونوں چیزوں میں بھاری نقصانات ہیں مگر ان میں لوگوں کے لئے کچھ فوائد بھی ہیں لیکن ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں، اس لئے ہم نے انہیں حرام قرار دیا ہے۔“ اس نہایت درجہ پر حکمت کلام میں خدا تعالیٰ نے شراب اور جوئے کو حرام قرار دینے کے باوجود ان کے بعض فوائد کو بر ملالتسلیم کیا ہے۔پس ہمیں بھی اس بات سے ہرگز انکار نہیں کہ زندگی کے بیمہ میں بھی بعض پہلو یقیناً مفید اور بے سہارا لوگوں کے لئے تسلی اور تسکین کا موجب ہیں لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک ابدی صداقت ہے کہ قومی اور ملکی قوانین کے بنانے میں صرف یہی بات نہیں دیکھی جاتی کہ کسی قانون میں کوئی فائدہ کا پہلو ہے یا نہیں بلکہ اس کے فوائد اور اس کے نقصانات دونوں کو با ہم تول کر اور موازنہ کر کے فیصلہ کیا جاتا ہے۔اگر کسی چیز کے فوائد اس کے نقصانات سے زیادہ ہوں تو اسے