مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1008
مضامین بشیر زندگی کے بیمہ کے متعلق اسلامی نظریہ ایک جائز ضرورت کو ناجائز طور پر پورا کر نیوالا نظام سید ولی اللہ شاہ سلمہ مبلغ افریقہ اپنے ایک بزرگ کے ذریعہ دریافت کرتے ہیں کہ زندگی کے بیمہ کے متعلق جس کا اس زمانہ میں وسیع رواج ہو رہا ہے اسلامی نظریہ کیا ہے اور آیا اسے جائز سمجھنا چاہئے یا کہ نا جائز ؟ اس کے جواب میں پہلی بات تو یہ یا درکھنی چاہئے کہ جہاں تک اس مسئلہ میں فتویٰ کے پہلو کا سوال ہے وہ جماعت احمدیہ کے مفتی (مولوی سیف الرحمن صاحب فاضل ) ربوہ سے دریافت کرنا چاہئے کیونکہ فتویٰ دینا صرف ان کا کام ہے نہ کہ میرا یا کسی اور کا۔البتہ اس سوال کے متعلق عام اسلامی نظریہ ہر شخص اپنے علم کے متعلق بیان کر سکتا ہے اور میں اس بارے میں اپنا خیال مختصر طور پر درج ذیل کرتا ہوں۔سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہئے کہ زندگی کا بیمہ جس صورت میں کہ وہ آج کل رائج ہے اور جہاں تک مجھے اس کا علم ہے، مجملاً یہ ہے کہ ملکی قانون کے ماتحت رجسٹر ہو کر مختلف بیمہ کمپنیاں قائم ہوتی ہیں۔یہ کمپنیاں تجارتی اصول پر قائم کی جاتی ہیں اور مناسب طریق پر سرمایہ مہیا کرنے کے بعد اپنا کام شروع کرتی ہیں۔کام کا طریق یہ ہوتا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنے مصالح اور پروگرام کے مطابق بعض سکیمیں تیار کرتی ہیں جنہیں بیمہ کمپنی کی اصطلاح میں پالیسی کا نام دیا جاتا ہے اور پھر ان مختلف پالیسیوں کے مطابق خواہشمند لوگ اپنی اپنی پسند کی پالیسی اختیار کر کے اپنی زندگیاں اس کمپنی کے دفتر میں بیمہ کرا دیتے ہیں جس کا طریق عموماً یہ ہوتا ہے ( میں اس جگہ تفاصیل کو نظر انداز کر رہا ہوں ) کہ بیمہ کرانے والا شخص اپنے پاس سے کچھ روپیہ بیمہ کمپنی کو قسطوں میں ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور اس کے مقابل پر بیمہ کمپنی اس بات کی پابندی لیتی ہے کہ وہ اس شخص کے مرنے پر (یا ایک مقررہ میعاد کے گزرنے پر یعنی جیسی بھی صورت ہو ) اس شخص کے ورثاء کو یا خود اس شخص کو یعنی جو بھی فیصلہ ہو ) اس شخص کے ورثا کو یا خود اس شخص کو اس قدر رو پیدا ادا کر دے گی۔ان دونوں رقموں میں ( یعنی وہ رقم جو بیمہ کمپنی بیمہ کرانے والے شخص سے وصول کرتی ہے ) اور وہ رقم جو بیمہ کمپنی ہمہ کرنے والے شخص یا اس کے ورثا کو ادا کرتی ہے ) بسا اوقات کافی فرق ہوتا ہے۔یہ فرق عموماً دو اصولوں پر مبنی ہوتا ہے اول : یہ