مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 661 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 661

۶۶۱ ایک غلطی کا ازالہ مضامین بشیر جور وئدا ومجلس مذہب وسائنس کے اجلاس مورخہ یکم نومبر کے تعلق میں الفضل میں شائع ہوئی ہے اس میں رپورٹ کنندہ ( یعنی اسٹنٹ سیکرٹری مجلس ) کی غلطی سے ایک ایسی بات بھی شائع ہوگئی ہے۔جو تعلیم اسلام اور روایات سلسلہ ہی کے خلاف نہیں ہے بلکہ حقیقیہ واقعہ کے بھی خلاف ہے۔رپورٹ میں یہ شائع ہوا ہے کہ یہ اجلاس حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی موجودگی میں مولوی ابوالعطاء صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا تھا۔حالانکہ امام کی موجودگی میں کسی دوسرے کی صدارت کیا معنی رکھتی ہے۔حق یہ ہے کہ چونکہ اس اجلاس میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ پہلی دفعہ شرکت فرما رہے تھے۔اس لئے اس غرض سے کہ حضور کو مجلس کے طریقہ کا ر سے اطلاع ہو جائے۔اور حضور آئیندہ کے لئے ضروری ہدایات جاری فرما سکیں۔مولانا ابوالعطاء صاحب کو جلسہ کی کارروائی یعنی مقررین کے بلانے اور سوال کرنے والوں کو سوال کا موقع دینے کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔اور اس بات کا اعلان کرتے ہوئے یہ صراحت کر دی گئی تھی کہ اصل صدارت تو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ ہی کی ہے لیکن حضور کی منظوری کے تابع یعنی اگر حضور ا جازت فرمائیں تو مجلس کا طریق کار بتانے کے لئے مولوی ابوالعطاء صاحب کی خدمت میں جو پہلے سے اس کام کے لئے مقرر تھے ، جلسہ کی کارروائی چلانے کے لئے درخواست کی جاتی ہے۔مگر رپورٹ کنندہ نے غلطی سے اسے یوں بیان کر دیا ہے کہ مولوی ابوالعطاء صاحب کی صدارت میں جلسہ ہوا جو صریحاً خلاف آداب خلافت ہے کیونکہ امام کی موجودگی میں کوئی دوسرا شخص صدر نہیں ہو سکتا۔سوائے اس کے کہ خود امام کی طرف سے جیسا کہ مجلس مشاورت میں ہوتا ہے کسی کو کارروائی کے کام میں امداد کے لئے مقرر کر دیا جائے۔( مطبوعه الفضل ۹ نومبر ۱۹۴۵ء)