مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 659 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 659

۶۵۹ مضامین بشیر قادیان اور اس کے گرد و نواح میں زمین خریدنے والوں کے لئے ایک ضروری اعلان بعض اصحاب قادیان میں ہمارے دخیل کاروں کے ساتھ ان کی زیر قبضہ زمین کے متعلق بیع و رہن وغیرہ کی گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔ایسے جملہ اصحاب کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے جیسا کہ پہلے بھی متعدد مرتبہ اعلان کیا جا چکا ہے کہ دخیل کا ران اپنی زیر قبضہ زمین کے مالک نہیں ہیں۔بلکہ محض مزارعان موروثی ہیں ، جنہیں اپنی زمین کے رہن رکھنے یا بیچ کرنے یا زراعت کے سوا کسی اور استعمال میں لانے کا حق حاصل نہیں ہے۔پس آیندہ کوئی صاحب ہمارے دخلی کا روں کے ساتھ بیع ورہن وغیرہ کی گفتگو کر کے اپنا نقصان نہ کریں۔باقی رہا یہ امر کہ مالکان اراضی کی اجازت کے ساتھ اراضی دخیل کاری حاصل کی جائے۔سو گو قا نو نا ایسا ہونا ممکن ہے لیکن چونکہ اس سے مالکان کے حقوق پر وسیع اثر پڑتا ہے اور کئی قسم کی مشکلات اور نا گوار حالات کے پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔اس کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس قسم کی اجازت نہیں دی جائے گی۔لہذا احباب کو چاہیئے کہ ایسی اجازت حاصل کرنے کے در پے بھی نہ ہوں۔علاوہ ازیں قادیان کے گردو نواح میں تین گاؤں ایسے ہیں جہاں کے باشندگان اپنی اراضیات کے کامل مالک نہیں ہیں بلکہ صرف مالک ادنی ہیں اور ملکیت اعلیٰ کے حقوق ہمارے خاندان کو حاصل ہیں۔یہ دیہات منگل باغباناں اور بھینی بانگر اور کھارا ہیں۔احباب کو چاہیئے کہ ان دیہات میں بھی کوئی سودا مالکانِ اعلیٰ کی پیشگی اور تحریری اجازت حاصل کرنے کے بغیر نہ کریں۔یہ پابندی ان دیہات کے قدیم اور اصل باشندگان کے سوا باقی سب احباب پر عائد ہو گی خواہ وہ اس سے قبل ان دیہات میں کوئی اراضی حاصل کر چکے ہوں یا آئیندہ کرنا چاہیے۔خلاصہ یہ کہ قادیان کی اراضی دخلی کاری کی خرید وربن وغیرہ بہر صورت منع ہے اور کسی صورت میں بھی اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور جو شخص ایسا سودا کرے گا وہ اپنے نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا۔اور منگل اور بھینی اور کھارا کی اراضیات ملکیت ادنی کے لئے مالکان اعلیٰ کی پیشگی اور تحریری