مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 651 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 651

۶۵۱ مضامین بشیر لازماً وہ دوسوننانوے لوگ جو تیر نا جانتے ہیں بچ جائیں گے۔اور وہ ایک شخص جو تیر نا نہیں جانتا ڈوب جائے گا اور کوئی عقلمند اس ایک شخص کے ڈوبنے کو خدائی عذاب کی طرف منسوب نہیں کر سکتا بلکہ ہر شخص یہی کہے گا کہ یہ نیچر کا ایک معمولی حادثہ تھا۔جس میں تیرنے والے بچ گئے اور تیرنا نہ جاننے والا وفات پا گیا۔پس چونکہ جیسا کہ اس کے سارے عزیز جانتے ہیں۔قدسیہ مرحومہ کا دل غیر معمولی طور پر کمزور تھا اس لئے جہاں دوسرے لوگ بجلی کا صدمہ اٹھا کر کم و بیش تکلیف کے بعد بچ گئے وہ بیچاری اس فوری صدمہ سے بچ نہ سکی اور جان بحق ہو گئی اور اس حادثہ میں خدائی غضب کا موجب تلاش کرنا محض جہالت یا شرارت کا نتیجہ ہے جس میں کچھ بھی حقیقت نہیں۔ہاں جیسا کہ میں اوپر اشارہ کر چکا ہوں بعض اوقات خاص استثنائی حالات میں خدا تعالیٰ اپنے قانون نیچر کو وقتی طو پر قانونِ شریعت کے تابع بھی کر دیتا ہے مگر یہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ اس نے اپنے کسی فرستادہ کے حق میں کوئی خاص نشان دکھانا ہو۔ایسے حالات میں خدائی تقدیر ایسے غیر معمولی حالات پیدا کر دیتی ہے کہ قانون قضاء قدر قانون شریعت کے سامنے ایک خادم کی حیثیت میں آکھڑا ہوتا ہے۔جیسا کہ مثلاً پنڈت لیکھرام کے وقت میں ہوا۔جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پنڈت لیکھرام نے ایک دوسرے کے مقابلہ پر نشان دکھانے کی غرض سے پیشگوئی کی اور اس کے لئے ایک معیاد بھی مقرر کر دی اور پھر اس معیاد کے اندر پنڈت صاحب کے ہم خیال لوگوں کی طرف سے ظاہری سامانوں کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف سازشیں بھی ہوئیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے صرف دعا پر اکتفا کی گئی۔مگر پھر بھی خدائی فرشتوں کا زبردست ہاتھ ایک کاری چھری بن کر پنڈت صاحب کے پیٹ میں گھس گیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا باوجود آپ کے خلاف ہزاروں سازشوں کے ، بال تک بیکا نہ ہو سکا۔کیونکہ یہ ایک خاص استثنائی صورت تھی۔جب کہ خدا کی مرکزی حکومت کے حکم سے قضا و قدر کی طاقتیں قانون شریعت کے ماتحت کر دی گئی تھیں مگر عام حالات میں ان دونوں قانونوں کا دائرہ ایک دوسرے سے بالکل جدا ر ہتا ہے۔اور خاص حالت کے سوا پر دو قانون مہذب حکومتوں کی طرح ایک دوسرے کے دائرہ میں دخل نہیں دیتے۔یہ مضمون پھر ایک تفصیلی بحث چاہتا ہے مگر یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں۔البتہ جو لوگ زیادہ تفصیل کے خواہاں ہوں وہ اس خاکسار کی کتاب ”ہمارا خدا کا متعلقہ حصہ ملا حظہ فرما سکتے ہیں۔مگر اسلام کا خدا بھی کیسا رحیم و کریم خدا ہے کہ جب اس کا کوئی بندہ اس کی قضا وقدر کے قانون کی زد میں آنے لگتا ہے تو ایک مہربان ماں کی طرح اس کی رحمت جوش میں آتی ہے۔اور گو وہ عام حالات میں قانون شریعت کی وجہ سے اپنے قانون نیچر میں تبدیل نہیں کرتا مگر اس صورت میں اس کی