مضامین بشیر (جلد 1) — Page 650
مضامین بشیر آزاد رکھا ہے۔یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ اگر مثلاً کوئی شخص قانون شریعت کا کوئی جرم کرے تو اسے قانون نیچر کے ماتحت سزا دے دی جائے۔یا اگر کسی شخص سے قانون نیچر کے ماتحت کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو اسے قانون شریعت کے دائرہ میں سزا مل جائے بلکہ ان دونوں قانونوں کے دائرے عام حالات میں ایک دوسرے سے بالکل جدا اور آزاد رہتے ہیں اور قانون شریعت کے جرم کی سزا قانون شریعت کے حلقہ میں ملتی ہے۔اور قانون نیچر کی قانون نیچر میں۔گویا یہ دو قانون آزاد حکومتوں کی طرح ہیں جو خدا تعالیٰ کی مرکزی حکومت کے ماتحت تو بیشک ہیں مگر ایک دوسرے کے مقابل پر عملاً آزاد ہیں۔سوائے اس کے کہ کسی استثنائی حالت میں خدا کی مرکزی حکومت ان میں سے کسی ایک کو دوسرے کی امداد میں لگا دے جیسا کہ مثلاً معجزات وغیرہ کے موقع پر ہوتا ہے۔جب کہ خدا تعالیٰ اپنے رسولوں کی صداقت کے لئے بعض اوقات قضاء قدر کے قانون کو وقتی طور پر شریعت کے قانون کے تابع کر دیتا ہے۔مگر یہ ایک استثنائی صورت ہے جو صرف خاص حالات سے تعلق رکھتی ہے۔اور عام قاعدہ یہی ہے کہ یہ دونوں قانون ایک دوسرے سے آزاد رہتے ہوئے الگ الگ دائرہ کے اندر کام کرتے ہیں مثلاً اگر ایک کشتی میں دو شخص بیٹھے ہوں جن میں سے ایک نیک اور پارسا ہو اور دوسرا دنیا دار اور بد اطوار اور اتفاق سے یہ کشتی دریا کے وسط میں پہنچ کر الٹ جائے تو یہ نہیں ہوگا کہ نیک شخص اپنی نیکی کی وجہ سے ڈوبنے سے بچ جائے اور بد شخص اپنی بدی کی وجہ سے تباہ ہو جائے کیونکہ پانی میں ڈو بنایا بچنا قانون نیچر کے دائرہ سے تعلق رکھتا ہے۔اور قانون شریعت کی نیکی کسی شخص کو غرقابی سے بچا نہیں سکتی۔پس اگر ایسے موقع پر بد شخص تیرنا جانتا ہے اور نیک نہیں جانتا تو لازماً بد شخص بچ جائے گا اور نیک ڈوب جائے گا کیونکہ یہ فعل قانون نیچر کے دائرہ سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ قانون شریعت سے اور ان دونوں قانونوں کے دائرہ کا الگ الگ ہونا انسانی ترقی کے لئے ضروری اور لازمی ہے۔ورنہ دنیا میں اندھیر نگری پیدا ہو جائے۔یہ ایک لمبی اور علمی بحث ہے مگر میں اس جگہ صرف اس قدر مجمل اشارہ پر اکتفا کرتا ہوں۔پس بجلی کا جو حادثہ لکڑ منڈی میں پیش آیا وہ قانون نیچر کا ایک حادثہ تھا اور اس میں جو شخص بھی اس کی زد کے نیچے آیا اس نے اپنے اپنے حالات کے مطابق اس سے نقصان اٹھایا۔یہ کہنا کہ کیا تمہیں چالیس اشخاص میں سے صرف قدسیہ نے ہی وفات پانا تھا ایک جہالت کا خیال ہے کیونکہ اگر تمہیں چھوڑ کر تین سولوگ بھی ہوتے اور ان میں صرف قدسیہ کا دل زیادہ کمزور ہوتا تو پھر بھی ان تین سولوگوں میں صرف قدسیہ ہی وفات پاتی۔جیسا کہ مثلاً اگر کسی کشتی میں تین سو آدمی سوار ہوں اور تین سو میں سے دو سوننانوے تیرنا جانتے ہوں اور صرف ایک شخص تیرنا نہ جانتا ہو اور یہ کشتی وسط دریا میں پہنچ کر الٹ جائے اور اس وقت حالات ایسے ہوں کہ تیرنے والے اشخاص بے تیر نے والے شخص کو بیچا نہ سکیں تو