مضامین بشیر (جلد 1) — Page 642
مضامین بشیر ۶۴۲ مجلس مذہب و سائنس کی مالی اعانت کے لئے اپیل سید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسح الثانی ایدہ اللہتعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس سال کے شروع میں مجلس مذہب و سائنس کا ایک نہایت ہی اہم مقصد کے لئے قیام فرمایا ہے۔موجودہ دنیا میں مذہب کی سب سے بڑی جنگ سائنس کے اُن علوم سے ہے جنہیں مذہب کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔مذہب وسائنس کا رشتہ تین قسم کا ہے۔ایک تو سائنس کے بعض علوم درحقیقت مذہبی اور بالخصوص اسلامی صداقتوں کی تائید کرتے ہیں لیکن مذہبی دنیا میں ابھی ان علوم کے متعلق پوری تحقیق نہیں ہوئی۔دوسرے ایسے نظریے اور تھیوریاں ہیں جن کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ مذہب کے خلاف ہیں لیکن در حقیقت ان کے اور مذہب کے درمیان حقیقی ٹکراؤ نہیں۔اور تیسرے وہ علوم جن کی تھیوریاں مذہبی سچائیوں کی تکذیب کرتی ہیں۔ان ہر سہ امور میں بہت وسیع اور لمبی تحقیق کی ضرورت ہے، اس کے بغیر احمدیت کی عالمگیر علمی جنگ کا میگزین تیار نہیں ہو سکتا۔یہ تحقیق جہاں علمی ذوق رکھنے والے احمدی احباب کے پورے تعاون کی متقاضی ہے وہاں اس کے لئے بہت وسیع لائبریری کی بھی ضرورت ہے۔جس میں سائنس اور فلسفہ کے تمام علوم جدیدہ کی نئی سے نئی کتب موجود ہوں تا کہ اس طرح جدید تحقیق کا علم ہوتا رہے۔پھر مختلف ہفتہ وار ماہوار رسائل کا جوان علم کے مختلف زیر تحقیق مسائل پر بحث کرتے رہتے ہیں ، ملنا بھی ضروری ہے۔اس کے علاوہ وسیع علمی تحقیق کے لئے ایسے ماہرین فن فلسفیوں اور سائنسدانوں کو مختلف علمی اداروں اور یونیورسٹیوں سے بلا کر اُن کے تحقیقی لیکچر بھی قادیان میں کرائے جائیں گے، جن کی روشنی میں ان علوم کی تفصیلات بوجہ احسن سمجھی جاسکیں۔یہ تمام امور اور پھر روز مرہ کی خط و کتابت کے لئے اخراجات کی ضرورت ہے۔لیکن ابھی تک مجلس مذہب و سائنس کے پاس ان مقاصد کے لئے کوئی رقوم نہیں ہیں۔جس کی وجہ سے کام کی رفتار پر بھی ایک حد تک اثر پڑا ہے۔حال ہی میں سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں یہ معاملہ پیش کیا گیا تو حضور نے تحصیل چندہ کی اجازت عطا فرمائی ہے۔بنابر میں جماعت کے پُر جوش مخلص اور ذی استطاعت احباب سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس مبارک کام کی اہمیت کا احساس فرماتے ہوئے مجلس کی مالی اعانت فرما ئیں تا کہ یہ نہایت ضروری کام جو احمدیت کی وسیع علمی جنگ کے لئے اسلحہ تیار کرنے کے مترادف ہے بوجہ احسن جاری