مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 623 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 623

۶۲۳ مضامین بشیر اور انتظامی سہولت کے ذرائع رکھتے ہوئے غریب رعایا کو بلا وجہ اپنے دور دراز کے کیمپوں میں بلا کر خراب اور زیر بار کرتے ہیں۔(۱۰) پھر اسلام میں زکوۃ وہ ٹیکس نہیں ہے جو ایک دفعہ ادا کرنے سے آئندہ واجب ہونا بند ہو جاتا ہے۔بلکہ حمال عليها الحول کے اصول کے ماتحت اسے ہر سال مقررہ شرح پر ادا کرنا ہوتا ہے۔خواہ اس سال بہ سال ادا ئیگی کی وجہ سے کسی کا سارا سرمایہ ہی ختم ہو جائے۔اس لئے جہاں اس نظام میں غرباء کا زیادہ سے زیادہ فائدہ مقصود ہے۔وہاں صاحب مال شخص بھی زکوۃ کی وجہ سے مجبور ہوتا ہے کہ مسلسل جد و جہد سے اپنے کام کو برقرار رکھتا اور ترقی دیتا چلا جائے۔اور چونکہ زکوۃ صرف راس المال پر ہی واجب نہیں ہوتی۔بلکہ نفع پر بھی واجب ہوتی ہے۔اس لئے اس نظام میں غرباء اور امراء ہر دو کے لئے ایک عجیب و غریب با برکت چکر قائم ہو جاتا ہے۔(۱۱) زکوۃ کی شرح بھی معمولی نہیں رکھی گئی۔بلکہ اقتصادی اصول کے ماتحت اچھی بھاری شرح مقرر کی گئی ہے۔تا کہ ایک طرف سرمایہ داری کے لئے سراٹھانا مشکل ہو جائے۔اور دوسری طرف غرباء کے لئے زیادہ سے زیادہ امداد کا رستہ کھل جائے۔چنانچہ زکوۃ کی شرح اڑھائی فیصدی سے لے کر خاص حالات میں بیس فیصدی تک چلتی ہے۔مثلاً سونے چاندی میں ( جن کے اندر بھاری زیورات بھی شامل ہیں ) اڑھائی فیصدی شرح ہے۔بکر یوں بھیٹروں میں بھی اڑھائی فیصدی شرح ہے۔گائیوں بھینسوں میں سوا تین فیصدی شرح ہے۔اونٹوں میں چار فیصدی شرح اور غلوں میں چاہی اور نہری اراضی کی پیداوار میں پانچ فیصدی شرح ہے۔اور بارانی یا قدرتی چشموں سے سیراب ہونے والی اراضی کی پیداوار میں دس فیصدی شرح ہے۔اور دفینوں اور بند خزانوں میں بیس فیصدی با مقطع کے علاوہ ان کے کام پر لگنے کی صورت میں سونے چاندی والی عام زکوۃ زائد لگتی ہے۔وغیرہ ذالک۔اور نفلی اور طوعی صدقات مزید برآں ہیں۔اور اگر نفلی صدقات میں اسلامی تعلیم کا نمونہ دیکھنا ہو تو اس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی اسوہ یہ تھا کہ روایت آتی ہے کہ رمضان کے مہینہ میں جس میں غرباء کی ضروریات زیادہ بڑھ جاتی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ غریبوں کی امداد میں اس طرح چلتا تھا جس طرح کہ وہ تیز آندھی جس کے رستہ میں کوئی روک نہ ہو چلا کرتی ہے۔(۱۲) عام زکوۃ کے علاوہ اسلام نے عید الفطر کے موقع پر جو ایک خاص طور پر خوشی کا موقع ہوتا ہے۔غرباء کی امداد کے لئے ایک خاص زکوۃ الگ صورت میں بھی مقرر فرمائی ہے۔جسے صدقۃ الفطر