مضامین بشیر (جلد 1) — Page 598
مضامین بشیر ۵۹۸ بدلہ یہی ہے کہ تو خود مجھی کو پالے۔اسی قسم کے الفاظ حدیث میں شہید ہونے والے شخص کے متعلق بھی آتے ہیں۔کیونکہ شہادت کو روزہ سے گہری مشا بہت ہے۔دوم : دوسری بات حدیث میں یہ بیان ہوئی ہے کہ خدا نے قیامت کے دن کے لئے جنت میں داخل ہونے کے واسطے مختلف دروازے مقرر کر رکھے ہیں۔کوئی دروازہ نماز کے لئے ہے اور کوئی ذکوۃ کے لئے ہے۔اور کوئی حج کے لئے وغیرہ ذالک۔اور روزہ کے واسطے جو دروازہ مقرر کیا گیا ہے اس کا نام ریسان ہے ۳۳۔اب ریسان کے معنی عربی زبان میں پیاسے کے مقابل کے ہیں۔یعنی وہ شخص جو پانی سے سیراب شدہ ہو۔اور اس میں اشارہ یہ ہے کہ جب ایک انسان خدا کی خاطر اپنی انفرادی اور نسلی زندگی کی تاروں کو کاٹنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔یعنی نہ کھاتا پیتا ہے۔اور نہ بیوی کے پاس جاتا ہے۔تو خدا اسے فرماتا ہے کہ اے میرے بندے تو نے میرے لئے اپنی ظاہری زندگی کے سہاروں کو کاٹ دیا۔اب تیری جزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ میں تجھے حقیقی اور دائمی زندگی کے پانی سے اتنا سیراب کروں کہ تم مجسم سیرابی ہو جائے۔یہی وہ لطیف مفہوم ہے جو ریان کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ہمارے خدا کے قانون جزا وسزا میں عجیب تناسب اور توازن چلتا ہے۔وہ جس چیز کو لیتا ہے۔اس کے بدلہ میں اسی نوع کی چیز ہزاروں درجہ بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔یہی وہ عظیم الشان فلسفہ ہے جس کے مطابق شہید ہونے والے شخص کے متعلق خدا فرما تا ہے اور کس شان اور غیرت کے ساتھ فرماتا ہے کہ جو شخص میرے رستہ میں جان دے اسے کبھی مرنے والا مت کہو کیونکہ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ۳۴ وہ زندہ ہیں۔اور خدا سے زندگی کا مزید رزق حاصل کرتے ہوئے ابدی ترقی پاتے جائیں گے۔(۶) حدیث میں روزہ کی ایک اور فضیلت بھی بیان ہوئی ہے۔اور وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ رمضان میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۳۵۔اس میں جہاں یہ اشارہ ہے کہ روزہ کی وجہ سے نیکیاں ترقی کرتی اور بدیاں مٹتی ہیں ، وہاں یہ بھی اشارہ ہے کہ رمضان میں خدا کے عفو کا دروازہ بہت وسیع ہو جاتا ہے۔اور جب عفو کا دروازہ وسیع ہوا تو اس کے نتیجہ میں لازماً جنت کا دروازہ کھلے گا اور جہنم کا بند ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ جب حضرت عائشہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ اگر میں لیلتہ القدر کو پاؤں تو کیا دعا کروں تو اس پر آپ نے فرمایا یہ دعا کرو کہ اللهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی ۶ سے یعنی اے میرے خدا تیری ایک صفت گناہ اور بدی