مضامین بشیر (جلد 1) — Page 593
۵۹۳ مضامین بشیر موجودہ ضروریات کا اندازہ حضور نے ڈیڑھ لاکھ روپے کا کیا ہے۔یہ رقم بہت جلد جمع ہو جانی چاہیئے۔اور ایک ایسی جماعت کے لئے جو مالی قربانیوں میں خاص طور پر تربیت یافتہ ہے یہ رقم ہرگز زیادہ نہیں بلکہ آج کل جنگ کی وجہ سے جو غیر معمولی اضافہ اکثر احباب کی آمد نیوں میں ہو چکا ہے اس کے پیش نظر وہ فوراً جمع ہو سکتی ہے۔دوست یا د رکھیں کہ جو خرچ بھی وہ دین کے راستہ میں کرتے ہیں وہ ایک روحانی کھیت کا بیج ہے، جو کبھی بھی ضائع نہیں جاتا بلکہ بہت بڑھ چڑھ کر واپس ہوتا ہے۔دوم : دوست اس کا لج میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے بچوں کو بھجوائیں تا کہ جماعت کا یہ ادارہ زیادہ سے زیادہ فائدہ بخش ہو سکے۔بچوں کو اس کالج میں بھجوانا انشاء اللہ تعالیٰ تین لحاظ سے مبارک ہوگا۔(1) وہ ایک نسبتا ستی جگہ میں تعلیم پائیں گے۔اور والدین پر بڑے شہروں کی نسبت کم بوجھ پڑے گا۔(۲) بچے اپنی عمر کے نازک ترین دور میں جبکہ وہ گویا ایک پکھلی ہوئی حالت میں سانچے کے اندر پڑے ہوئے ہوتے ہیں ، احمدیت کے ماحول میں تربیت پائیں گے۔اور بیرونی دنیا کے گندے اور مادی اثرات سے محفوظ رہیں گے۔(۳) وہ اسلام اور احمدیت کے بہادر سپاہی بن سکیں گے۔اور اس نئے اور نازک دور میں جو جماعت پر بلکہ ساری دنیا پر بڑی سرعت کے ساتھ آ رہا ہے اسلام کی خدمت سرانجام دے کر اپنے اور اپنے والدین کے لئے خدا سے غیر معمولی برکتیں پائیں گے۔اور اپنے خاندانوں کے لئے گویا ایک مجسمہ صدقہ جاریہ بن جائیں گے۔نیز دوستوں کو چاہیئے کہ جہاں تک ہو سکے اپنے غیر احمدی اور غیر مسلم احباب میں تحریک کریں کہ وہ اپنے بچوں کو ہمارے کالج میں تعلیم پانے کے لئے بھجوائیں۔سوم : اگر کسی دوست کے ذہن میں مجوزہ کالج کو زیادہ بہتر اور زیادہ کامیاب بنانے کے لئے کوئی تجویز آئے تو وہ کالج کمیٹی کو ، جس کے سیکرٹری مکرمی ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے قادیان ہیں ، اپنے مفید مشورہ سے مطلع فرمائیں۔چهارم : جن دوستوں کو مجوزہ کالج میں تعلیم دینے کے لئے بطور لیکچرار وغیرہ چنا جائے وہ اسے ایک دینی خدمت سمجھتے ہوئے آگے آئیں۔اور اس نیت اور عزم کے ساتھ آئیں کہ ان کے سپر د جماعت کے ایسے نوجوان کئے جار ہے ہیں جنہوں نے حق و باطل کی آخری جنگ میں سپاہی بن کر لڑنا ہے۔جو نہ صرف اعلی علمی زیور سے آراستہ ہونے چاہئیں۔بلکہ غیر معمولی قوت