مضامین بشیر (جلد 1) — Page 592
مضامین بشیر ۵۹۲ ہے۔بات یہ ہے کہ دین روح ہے اور دنیا جسم۔اور جس طرح ایک انسان کی کامل ترقی روحانی اور جسمانی ہر دو پہلوؤں کی طرف توجہ دینے کے ساتھ ہی مشروط ہے ، اسی طرح خدائی جماعتوں کی ترقی بھی دینی اور دنیوی تدابیر کو احسن طور پر ملا کر بجالانے کے ساتھ وابستہ ہے۔یہی وہ لطیف نکتہ ہے جس کی طرف حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ کو اپنے دعوئی مصلح موعود کی بنیادی رؤیا میں توجہ دلائی گئی ہے۔یعنی آپ کو رویا میں تین رستے دکھائے گئے ایک بالکل دائیں طرف جانے والا جو خالص دینی تدابیر کا راستہ تھا۔اور ایک بالکل بائیں طرف جانے والا جو خالص دنیوی تدابیر کا رستہ تھا۔اور ایک دونوں کے بین بین رستہ جو ہر دو قسم کی تدابیر کو ملاتا تھا۔اور آپ کو رویا میں وحی خفی کے ذریعہ ہدایت دی گئی کہ اس درمیانی رستہ پر گامزن ہونا چاہیئے۔اور جیسا کہ حضور نے خود اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا ہے یہی اشارہ اس قرآنی آیت میں ہے۔جس میں مسلمانوں کو امۃ وسطی کہا گیا ہے۔الغرض جس جہت سے بھی دیکھا جائے ہما را مجوزہ کا لج نہ صرف آنے والے عظیم الشان دوروں کی برکت اور ذمہ داری کو اپنے ساتھ لا رہا ہے۔بلکہ جماعت کے نظام کا ایک حصہ اور خلیفہ وقت کے ارشادات کی ایک مبارک پیداوار ہونے کے لحاظ سے بھی آخری زمانہ کی روحانی جنگ کی تدبیروں میں سے ایک تدبیر ہے۔اور اسی جہت سے جماعت کو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیئے اور جہاں تک ہماری طاقت میں ہے اسے کامیاب بنانے کی پوری پوری کوشش کرنی چاہیئے۔دراصل آنے والے دور کی بڑی اور بھاری خصوصیت اقوام عالم کے علمی اور عملی مقابلہ کے رنگ میں ظاہر ہونے والی ہے۔جنگ کے بعد دنیا کی ہر قوم ایک حشر کے رنگ میں اٹھے گی۔اور دنیا میں زندہ رہنے اور دوسروں سے آگے آنے کے لئے غیر معمولی جد و جہد سے کام لے گی۔اور طبائع میں ایک خاص قسم کی بیداری اور تلاش کی کیفیت پیدا ہو جائے گی اور اس میدان کے لئے ہمیں ابھی سے پوری پوری تیاری کرنی چاہیئے۔جس کا ایک بھاری ذریعہ دین و دنیا کے بہترین عالم پیدا کرنا ہے۔جو اپنے بلند پایہ علم کے ساتھ ساتھ غیر معمولی قوت عمل کے بھی مالک ہوں۔پس میں اپنے دوستوں سے جنہیں خدا نے اپنے فضل ورحم سے نوراحمدیت کے طفیل خاص شعور عطا فرمایا ہے۔اپیل کرتا ہوں کہ وہ مجوزہ تعلیم الاسلام کالج کی امداد کے لئے مندرجہ ذیل طریق پر آگے آئیں اور اس کا ثواب میں حصہ لیں۔اوّل: جیسا کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک خطبہ جمعہ میں اپیل کی ہے۔وہ اپنے چندوں سے کالج کے ابتدائی اور مستقل اخراجات کے لئے بڑھ چڑھ کر امداد دیں۔