مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 588 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 588

مضامین بشیر ۵۸۸ مرحومہ کے لئے درمندانہ دعائیں اب ایک آخری لفظ کہہ کر میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں ، ہر وفات پانے والے کے متعلق اس کا ہر عزیز کچھ نہ کچھ ذاتی جذبات رکھتا ہے۔اور میں اس فطری قاعدہ سے مستثنیٰ نہیں اور اگر میں چاہوں تو ہمشیرہ مرحومہ کے متعلق جو ایک بہترین بہن تھیں۔اس باب میں بہت کچھ لکھ سکتا ہوں مگر میں نے دانستہ اس رستہ پر پڑنے سے احتراز کیا ہے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ مرحومہ کے متعلق میرے جذبات لفظوں میں گم ہو کر ہوا میں اڑ جائیں۔پس میں انہیں دعاؤں کی تحریک کے لئے اپنے سینہ میں محفوظ رکھتا ہوں کیونکہ ایک مرنے والے کے لئے جس کے اپنے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔اس کے پیچھے رہ جانے والوں کی دعائیں ہی بہترین خدمت ہیں مگر دعاؤں کی توفیق ملنا بھی خدا کے فضل پر منحصر ہے۔پس اے ہمارے مہربان آقا جو زمین و آسمان کا واحد خدا ہے۔جو اس دنیا کا بھی مالک ہے اور اگلے جہان کا بھی۔جس نے موت سے زندگی پیدا کی اور پھر اس زندگی کو موت میں گم کر دیا۔اور اس موت سے پھر ایک آخری زندگی پیدا کرے گا۔جس کے بعد کوئی موت نہیں۔پس اے آخری اور دائمی زندگی کے مالک جس طرح تو نے ہماری رخصت ہونے والی بہن کو اس کی زندگی کے پہلے دور میں نوازا اور اس کے دامن کو اپنے فضل و رحمت کے پھولوں سے بھر دیا اور پھر جس طرح تو نے اس کی موت کو اپنی تقدیر خاص کے ماتحت برکت عطا کی اور اسے رحمت کے نشانوں سے زینت دی۔اسی طرح اے ہمارے رحیم و ورود آقا تو اپنی اس کمزور بندی کو جو عین عالم شباب میں زندگی کے پہلے دور سے کٹ کر اور بے شمار عزیزوں کی رفاقت کو چھوڑ کر زندگی کے آخری دور میں تنہا قدم رکھ رہی ہے۔اپنے فضل اور رحمت کے ہاتھوں سے قبول کر اور اس کی کمزوریوں پر جواکثر انسانوں کے ساتھ لگی ہوئی ہیں اپنی مغفرت کا پردہ ڈال کر اسے اس پاک گروہ میں داخل فرما۔جو تیری از لی تقدیر کے ماتحت بے حساب بخشش پانے والا ہے۔خدایا تو ہماری اس بہن کے لئے جس کی پہلی زندگی تیرے ہی سایہ کے نیچے گزری اس کے قبر کے زمانہ کو آسان کر دے اور اس کی روح کے تو خش کو جو اس نئے دور کے ماحول میں پیدا ہوسکتا ہے، اپنی شفقت کی نظر سے دور فرما اور اسے سکینت اور قرار عطا کر۔وہ تیری ہی رحمت کے سایہ میں سے نکلی ہے تیری ہی رحمت کے سایہ میں جگہ پائے۔اور تیرا برگزیدہ رسول جس کی وہ نواسی ہے اور تیرا پاک مسیح جس کی وہ بہو اور بیٹی ہے اسے اپنی محبت کی گود میں جگہ دیں۔خدا یا تیری جنت بہت وسیع ہے۔اور تیرے فضل و کرم کی کوئی حد نہیں۔تو ایسا کرم فرما کہ تیری یہ بندی جسے تو نے دنیا میں مرتبہ اور شرف عطا کیا وہ آخرت میں بھی تیری رحمت کے ہاتھوں سے رتبہ اور شرف پائے