مضامین بشیر (جلد 1) — Page 573
۵۷۳ مضامین بشیر الغرض ہمشیرہ مرحومہ کا سب سے نمایاں وصف دینی اور جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا تھا۔اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ مرحومہ کی رُوح نے اس نکتہ کو اپنا حرز بنا رکھا ہے کہ فَضَّلَ اللهُ الْمُجَاهِدِينَ بِاَ مُوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً ٢٦ یعنی خدا کے نزدیک دین کے راستہ میں جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر 66 بہت بڑی فضیلت حاصل ہے۔“ ویسے بھی کسی امر میں قاعد بن کر رہنا مرحومہ کی فطرت کے بالکل خلاف تھا۔ان کی روح ہر وقت حرکت میں رہنا چاہتی تھی۔اور اس میں کیا رشک ہے کہ حرکت میں ہی برکت ہے۔بہر حال جماعتی خدمات میں ہمشیرہ مرحومہ کا مقام بہت بلند تھا۔اور اس جہت سے ان کا نیک نمونہ یقیناً ہم میں سے بہتوں کے لئے ایک مفید مشعل راہ کا کام دے سکتا ہے۔نظام جماعت سے دلی اخلاص اور جماعتی کاموں میں محبانہ شرکت کا نتیجہ اس جگہ میں ایک ضمنی بات بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں۔میں نے اپنے ذوق کے مطابق بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے والوں کے حالات کا مطالعہ کیا ہے۔اور خصوصاً ان لوگوں کے حالات کو زیادہ غور سے دیکھا ہے جو باوجو د موصی نہ ہونے کے مقبرہ بہشتی میں جگہ حاصل کر لیتے ہیں یا با وجود موصی ہونے کے وہاں دفن ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں اور اس مطالعہ کے نتیجہ میں مجھے اللہ تعالیٰ نے یہی علم عطا کیا ہے کہ خدا کے نزدیک جو وزن نظام جماعت کے ساتھ دلی اخلاص رکھنے اور اس نظام کا پرزہ بن کر رہنے اور جماعتی کاموں میں شوق اور محبت اور قربانی کی روح کے ساتھ حصہ لینے کو حاصل ہے۔اس کا عشر عشیر بھی ان نیکیوں کو حاصل نہیں جو محض ایک انسان کی ذات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں کہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الجَنَّةَ - وہاں بھی اسی از لی نکتہ کا اظہار مقصود ہے کہ پاک نیت اور سچے دل کے ساتھ الہی نظام کو قبول کرلو اور اس کا حصہ بن جاؤ۔پھر تمہارے لئے جنت کا رستہ صاف ہے۔خواہ تم میں کوئی عملی کمزوری ہی موجود ہو۔کیونکہ ایسی کمزوری کو خدائے رحیم وکریم کا یہ زبردست قانون که إِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ ۲۸ خس و خاشاک کی طرح اڑا کر پھینک دیتا ہے۔مقبرہ بہشتی کے حالات میں میں نے دیکھا ہے اور بارہا دیکھا اور اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو میں اس کی مثال بھی پیش کر دیتا کہ جو شخص اس زمانہ کے الہی نظام کو سچے دل سے قبول کر کے کا حقیقی پرزہ بن جاتا ہے۔اور