مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 572 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 572

مضامین بشیر ۵۷۲ کی وجہ سے جلدی لاہور واپس جانے کا ارادہ کیا تو مرحومہ نے حضور کی خدمت میں خاص پیغام بھجوایا کہ چونکہ جلسہ کا کام ایک خاص دینی کام ہے آپ میری وجہ سے واپسی میں جلدی نہ کریں بلکہ تسلی اور اطمینان کے ساتھ سارے کام سے فارغ ہو کر واپس آئیں۔اسی طرح مکر می سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے مضمون میں احباب پڑھ چکے ہیں کہ جب شاہ صاحب موصوف کو جو مرحومہ کے بڑے بھائی ہیں مرحومہ کی بیماری کی وجہ سے جلسہ کے موقع پر قادیان واپس آنے میں تامل ہوا تو ہمشیرہ مرحومہ نے انہیں یہ کہتے ہوئے اصرار کے ساتھ واپس بھجوایا کہ میں تو بوجہ بیماری جلسہ کی شرکت سے محروم رہی۔آپ اس خدمت اور اس نعمت سے کیوں محروم ہوتے ہیں۔مالی قربانی میں ممتاز حیثیت مالی قربانی میں بھی سیدہ موصوفہ کو خدا تعالیٰ نے ممتاز حیثیت عطا کی تھی اور میں جب ان کے چندوں کو دیکھتا تھا تو حیران ہوتا تھا کہ یہ اس قلیل آمد پر اتنے بھاری چندے کس طرح ادا کرتی ہیں۔جو دوست ہمارے گھروں کے حالات سے واقف ہیں انہیں معلوم ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی طرف سے جو ماہوار خرچ حضور کے گھروں میں ملتا ہے وہ بہت ہی نپا تلا ہوتا ہے۔مگر با وجود اس کے سیدہ موصوفہ نہ معلوم کس طرح اپنے گھر کے اخراجات سے رقمیں کاٹ کر سلسلہ کے چندوں میں دوسروں سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔اور پھر یہی نہیں کہ صرف چندہ عام یا چندہ تحریک جدید میں حصہ لے لیا اور باقی کو نظر انداز کر دیا بلکہ چندہ کی ہر تحریک میں پیش پیش رہتی تھیں۔حتی کہ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ تحریک جدید کی امانت ذاتی کے شعبہ میں بھی انہوں نے محض شرکت ثواب کی خاطر حصہ لے رکھا تھا اور اسی طرح پرائیویٹ چندوں میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتی تھیں۔یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ سوائے حضرت خلیفہ اسیح والی باری کے دن کے جب کہ وہ کچھ تو حضور کے آرام کے خیال سے اور کچھ اس احساس کے ماتحت کہ حضور کو ان کی گھر کی تنگی کا علم نہ ہو کسی قد راچھا کھانا پکوالیتی تھیں۔عموماً گھر کا کھانا پینا نہائت درجہ سادہ بلکہ غریبا نہ ہوتا تھا۔بایں ہمہ ہمشیرہ مرحومہ بے حد مہمان نواز تھیں۔اور مہمانوں کے آرام کی خاطر سب کچھ خرچ کر ڈالنے میں دریغ نہیں تھا۔اور مہمانوں کی خدمت میں حقیقی خوشی پاتی تھیں۔مرحومہ موصیہ تو شروع سے ہی تھیں مگر یہ بات غالباً اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہوگی کہ کئی سال سے مرحومہ نے اپنے حصہ وصیت کو 4 سے بڑھا کر ۳/ ا کر دیا تھا۔اور دوست جانتے ہیں کہ ۳ وہ انتہائی حد ہے جس سے اوپر اسلام نے کوئی وصیت جائز نہیں رکھی۔