مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 558 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 558

مضامین بشیر ۵۵۸ متعلق کچھ اور عرض نہیں کر سکتا۔پس میں اپنے اس نوٹ کو انہی مختصر فقرات پر ختم کرتا ہوں۔اور خدا سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے بھی اور دوسرے دوستوں کو بھی ہمیشہ اپنی رضا کے راستہ پر قائم رکھے۔آمین حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کا شائع شدہ فیصلہ میں یہ مضمون لکھ چکا تھا کہ مجھے ایڈیٹر صاحب الفضل نے حضرت خلیفتہ المسح الثانی ایدہ اللہ کے ایک ایسے شائع شدہ فتوی کی طرف راہ نمائی کی ہے جو اس مسئلہ کے ایک حصہ میں اصولی روشنی ڈالنے والا ہے اور ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسے یہاں درج کر دیا جائے۔اس فتویٰ کا واقع یوں ہے کہ غالباً ۱۹۳۹ء کے آخر یا ۱۹۴۰ء کے شروع میں حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ ریڈیو یا گراموفون ریکارڈ کے ذریعہ غیر عورت کا گانا سننا جائز نہیں ہے لیکن جب نظارت تعلیم و تربیت کے ذریعہ یہ فتویٰ حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ کے علم میں لایا گیا تو اس پر حضور نے مندرجہ ذیل ارشادصا در فرمایا : - دو میں اس بات کا قائل نہیں کہ کسی عورت کا گانا آمنے سامنے ہو کر سننا یا بذریعہ ریڈیو یا گراموفون سننا ایک ہی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ مرزا افضل بیگ صاحب مرحوم کے گراموفون پر ایک غزل گائی جاتی تھی ، میرے سامنے سنی اور اس کو منع قرار نہیں دیا۔البتہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اس طرح برا اثر پڑ سکتا ہے۔اور ضیاع وقت ہے اس بات کو روکا جا سکتا ہے مگر اس دلیل کی بناء پر اس کی حرمت کا فتوی میں دینے کو تیار نہیں ہوں۔۲۰۰ غیر عورتوں کا گانا سننے کے متعلق یہ فتویٰ ایک اصولی رنگ رکھتا ہے مگر چونکہ اس میں آلات موسیقی کے متعلق کوئی تصریح نہیں اس لئے میرا اوپر کا سوال پھر بھی قائم رہے گا۔مسئلہ کے چار حصے دراصل اس مسئلہ کے چار حصے ہیں اول: مردوں یا عورتوں کا اپنے طور پر خوش الحانی کے ساتھ شعر یا گیت وغیرہ پڑھنا۔دوم : مردوں کا غیر عورتوں کے گانے کو ان کی مجلس میں شریک ہو کر سننا۔سوم : مردوں کا ریڈیو یا گراموفون پر غیر عورتوں کا گانا سننا چهارم: آلات موسیقی والا گا ناسننا خواہ وہ عورتوں کا ہو یا مردوں کا اور خواہ سننے والے مرد ہوں یا عورتیں۔