مضامین بشیر (جلد 1) — Page 523
۵۲۳ مضامین بشیر ہیں اور ایک ایک دو دو کر کے آہستہ آہستہ خدائی سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں اور جب تک خدا کو منظور ہوتا ہے ، یہی صورت قائم رہتی ہے۔پھر اس کے بعد دوسرے دور کا آغا ز ہوتا ہے جس میں خدا کی چھپی ہوئی نصرت گویا اپنے پردوں کو پھاڑ کر باہر نکل آتی ہے اور نظر آنے والی فتح کے دروازے وسیع طور پر کھل جاتے ہیں۔اس وقت ترقی کی رفتار بہت تیز ہو جاتی ہے اور خدائی سلسلہ میں داخلہ انفرادی صورت تک محدود نہیں رہتا بلکہ افواج کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور لوگ جوق در جوق اور فوج در فوج حق کو قبول کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہی وہ نصرت وفتح ہے جس کی طرف اوپر والی سورۃ میں اشارہ کیا گیا ہے۔پس اس وقت میری توجہ اس طرف منتقل ہوئی کہ احمدیت کا نیا دور جو خدا کے فضل سے نصرت اور فتح کا دور ہے۔سنت اللہ کے ماتحت اپنے اندر بعض خطرات بھی رکھتا ہے اور اپنے ساتھ بعض ذمہ داریاں بھی لاتا ہے۔اور جماعت کا فرض ہے کہ ان خطرات اور ان ذمہ داریوں کی طرف سے قطعاً غافل نہ ہو۔اور آنے والی ترقی کے زمانہ میں خصوصیت کے ساتھ اس روحانی علاج کو اختیار کرے جو اس سورۃ کے آخر میں بیان کیا گیا ہے اور وہ علاج یہ ہے۔اول : تسبیح وتحمید۔دوم :۔استغفار۔یہ الفاظ بہت مختصر ہیں مگر ان کے اندر حقائق کا ایک وسیع سمندر مخفی ہے۔دراصل غور کیا جائے تو خدائی جماعتوں پر جب ترقی کا دور آتا ہے تو اس وقت دو بھاری خطرات ان کے سامنے ہوتے ہیں اور اگر وہ ان خطرات پر آگاہ ہو کر ان کے انسداد کا طریق اختیار کریں۔اور اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح نبھا ئیں تو ان کے لئے اس ترقی کے قدم کو اور بھی زیادہ تیز کر دیا جاتا ہے۔ورنہ نعوذ بالله من ذالک یہی ترقی ان کی تباہی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔وہ دو خطرے جن کی طرف یہ سورۃ اشارہ کرتی ہے۔یہ ہیں کہ : - اول۔جب ایک جماعت کمزور حالت سے ترقی کر کے مضبوطی کو پہونچ جاتی ہے تو بسا اوقات وہ اپنی ترقی کو خو دا اپنی جد و جہد اور اپنی قربانی کی طرف منسوب کر نے لگ جاتی ہے۔اور اس بات کو بھول جاتی ہے کہ اس کی ترقی کی تہہ میں خدا کا مخفی ہاتھ کام کر رہا تھا اور یہ کہ اگر یہ ہاتھ نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی ترقی کی اس منزل کو نہ پہنچ سکتی۔دوسرا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ ترقی کے زمانہ میں بسا اوقات لوگ اپنی ترقی اور بڑائی کے نشہ میں مخمور ہو کر ان خوبیوں کو کھو بیٹھتے ہیں جو انہیں کمزوری کے زمانہ میں حاصل تھیں اور اپنے فرائض کی طرف سے غافل ہو جاتے ہیں۔اور وہ خرابیاں جو عموماً بڑے لوگوں میں پائی جاتی ہیں مثلاً