مضامین بشیر (جلد 1) — Page 514
مضامین بشیر ۵۱۴ ایک غلط فہمی کا ازالہ اور مسئلہ رہن پر ایک مختصر نوٹ چند دن ہوئے میری طرف سے ”الفضل میں ایک اعلان شائع ہوا تھا۔جس میں قادیان کے کارخانوں کی امداد کے واسطے روپیہ لگانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔مجھے ایک محترم دوست نے توجہ دلائی ہے کہ اس اعلان کے بعض الفاظ ایسے ہیں کہ اُن سے اس معاملہ میں سُود کی جھلک نظر آتی ہے۔میں نے اس اعلان کو دوبارہ نہیں دیکھا ممکن ہے کہ بعض الفاظ غیر محتاط ہو گئے ہوں۔مگر بہر حال کسی سچے احمدی کے اعلان میں سُود کا رنگ مقصود نہیں ہو سکتا۔اور اس بارے میں غلط فہمی کا پیدا ہونا یقیناً قابل افسوس ہے۔جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے اس اعلان میں صراحت کر دی تھی کہ روپیہ دو طرح لگایا جا سکتا ہے۔ایک کارخانہ میں حصہ داری کی صورت میں اور دوسرے رہن کی صورت میں جو مکانوں ، دوکانوں ، یا زمین یا مشینری وغیرہ کی صورت میں ہو سکتا ہے میرے بزرگ دوست نے رہن والی صورت میں اعلان کے اندر کوئی قابلِ اعتراض بات سمجھی ہے۔افسوس ہے کہ میں اس وقت بوجہ وقت کی تنگی اور مصروفیت کے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔اور بوجہ اس کے کہ میں مفتی یا فقیہہ نہیں ، زیادہ لکھنے کا حق بھی نہیں رکھتا لیکن مختصر طور پر عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ رہن کی صورت اگر اس کی تفصیل میں کوئی بات شریعت کے خلاف نہ ہو ایک جائز صورت ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلیفہ وقت کے فتویٰ اور عمل کی تائید حاصل ہے۔دراصل رہن کی جائز صورت کا مرکزی نقطہ ان تین باتوں میں آجاتا ہے : اول : رہن میں آمد یا کرایہ وغیرہ کی بنیا د روپیہ کی مقدار پر نہ ہو بلکہ جائداد مر ہو نہ کی بنیاد پر ہو۔مثلاً ایک شخص ایک مکان ایک ہزار روپے میں رہن لیتا ہے۔اور وہ مکان چار روپے ماہوار کرایہ کی حیثیت کا ہے تو رہن لینے والے کے لئے اس مکان کا چار روپے ماہوار کرایہ وصول کرنا بالکل جائز