مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 43 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 43

۴۳ مضامین بشیر میں نے یہ بات روایت کے اختتام پر نوٹ کر دی۔الغرض میں نے اپنی طرف سے تو حتی الوسع بڑی احتیاط سے کام لیا ہے لیکن اگر میں نے کسی جگہ غلطی کھائی ہے یا کوئی کمزوری دکھائی ہے تو میں جانتا ہوں کہ میں ایک کمزور انسان ہوں اور غلطی کا اعتراف کر لینا میرے مذہب میں ہرگز موجب ذلّت نہیں بلکہ موجب عزت ہے۔پس اگر اب بھی ڈاکٹر صاحب یا کسی اور صاحب کی طرف سے کوئی ایسی بات ثابت کی جائے جس میں میں نے کوئی غلط یا قابل اعتراض یا غیر محتاط طریق اختیار کیا ہے تو میں نہ صرف اپنی غلطی کو تسلیم کر کے اپنی اصلاح کی کوشش کروں گا بلکہ ایسے صاحب کا ممنون احسان ہوں گا۔ا افسوس صرف یہ ہے کہ محض اعتراض کرنے کے خیال سے اعتراض کر دیا جاتا ہے اور دوسرے کی کوشش کو بلا وجہ حقیر اور بے فائدہ ثابت کرنے کا طریق اختیار کیا جا تا ہے ورنہ ہمدردی کے ساتھ علمی تبادلہ خیالات ہو تو معترض بھی فائدہ اٹھائے۔مصنف کی بھی تنویر ہو۔اور لوگوں کے معلومات میں بھی مفید اضافہ کی راہ نکلے۔اب میری کتاب ان مسائل کے متعلق تو ہے نہیں جو مبایعین اور غیر مبایعین کے درمیان اختلاف کا موجب ہیں بلکہ ایک ایسے مضمون کے متعلق ہے جو تمام احمدی کہلانے والوں کے مشترکہ مفاد سے تعلق رکھتا ہے اور پھر اس مضمون کی اہمیت اور ضرورت سے بھی کسی احمدی کو انکار نہیں ہوسکتا۔اندریں حالات اس قسم کی تصنیفات کے متعلق صرف اس خیال سے کہ ان کا مصنف مخالف جماعت سے تعلق رکھتا ہے خواہ نخواہ مخالفانہ اور غیر ہمدردانہ اور دل آزار طریق اختیار کرنا دلوں کی کدورت کو زیادہ کرنے کے سوا اور کیا نتیجہ پیدا کرسکتا ہے۔۔پھر ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ سیرت المہدی میں محدثین کی ظاہری نقل تو کی گئی ہے لیکن ان کی تنقید اور باریک بینیوں کا نشان تک نہیں ہے۔محدثین کا مقدس گروہ میرے لئے ہر طرح جائے عزت واحترام ہے اور گو جائز طور پر دوسروں سے آگے بڑھنے کی خواہش ہر صحیح الدماغ شخص کے دل وسینہ میں موجود ہوتی ہے یا کم از کم ہونی چاہیئے۔لیکن میرے دل کا یہ حال ہے واللہ علیٰ ما اقول شهید که ائمه حدیث کا خوشہ چیں ہونے کو بھی میں اپنے لئے بڑی عزتوں میں سے ایک عزت خیال کرتا ہوں اور ان کے مد مقابل کھڑا ہونا یا ان کے سامنے اپنی کسی نا چیز کوشش کا نام لینا بھی ان کی ارفع اور اعلیٰ شان کے منافی سمجھتا ہوں۔میں یہ عرض کر چکا ہوں کہ کتاب کے شروع میں جو چند فقرات عربی طریق کے مطابق لکھے گئے ہیں اور نقل کی نیت سے ہر گز نہیں لکھے گئے لیکن اگر نقل کی نیت ہو بھی تو میرے نزدیک اس میں ہر گز کوئی حرج نہیں ہے۔مکرم ڈاکٹر صاحب ! اگر ہم اپنے بزرگوں کے نقشِ پا پر نہ چلیں گے تو اور کس کے چلیں گے۔حضرت مسیح موعود کی تو یہاں تک خواہش رہتی تھی کہ ممکن ہو ا حمد یوں کی زبان ہی عربی ہو جائے۔پس