مضامین بشیر (جلد 1) — Page 470
مضامین بشیر ۴۷۰ کے ساتھ ٹیڑھا پن لازم و ملزوم کے طور پر ہے یعنی جہاں عقل عمو ماسید ھے رستہ پر چلتی ہے وہاں جذبات میں ایک قدرتی ٹیڑھا پن ہے جس کے بغیر جذبات کی نزاکت اور ان کے بانکپن کا اظہار قطعاً ناممکن ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلام ایک عظیم الشان حکمت اور فلسفہ کا حامل ہے جس کی نظیر کسی دوسری جگہ نہیں ملتی۔جذباتی سکیت کی ضرورت اس جگہ آ کر ایک اور سوال اٹھتا ہے اور وہ یہ کہ مرد کو اس قسم کی سکیت کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکیم ہستی نے انسان کو ایسی فطرت پر بنایا ہے کہ جب وہ اپنی گونا گوں ذمہ داریوں میں گھر کر اور ان کے بوجھوں کے نیچے دب کر تکان محسوس کرتا اور تھک جاتا ہے تو جس طرح خدا نے جسمانی لحاظ سے انسان کے لئے نیند کا انتظام مقرر کر رکھا ہے ، اسی طرح اس کی روح کے اندر جذبات کی پیاس بھی رکھ دی گئی ہے اور اس قسم کی تکان اور کوفت کے لمحات میں وہ اپنی پیاس کو بجھا کر پھر اپنے کام کے لئے تازہ دم ہو جاتا ہے ورنہ اس کی نازک اور بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ اسے ہر وقت یکساں دبائے رکھے اور آرم اور سکون کا کوئی لمحہ بھی اسے نصیب نہ ہو تو یقیناً اس کی ہستی کی مشین چند دن میں ہی ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہو جائے۔پس جہاں خدا تعالیٰ نے انسان پر دینی اور دنیوی میدان میں بھاری ذمہ داریاں لگائی ہیں ، وہاں اپنی ازلی حکمت اور رحمت کے نتیجہ میں اس کے اندر بعض خاص قسم کے جذبات پیدا کر کے اس کی دماغی تکان اور کوفت کے دور کرنے کا سامان بھی مہیا کر دیا ہے جو گو یا جسمانی نظام میں نیند کے مشابہ ہے جو جسم کی طاقتوں کو بحال رکھنے کے لئے ضروری ہے۔مگر یہ یادر ہے کہ اس جگہ میری مراد جذبات سے شہوانی جذبات نہیں گوشہوانی جذبات کو بھی میں اصولاً بُر انہیں کہتا کیونکہ وہ بھی انسانی فطرت کا حصہ ہیں اور اگر وہ جائز حدود کے اندرر ہیں تو ان میں کوئی بُرائی نہیں بلکہ وہ بعض اہم فطری ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذریعہ ہیں مگر اس جگہ میری مراد محبت کے جذبات ہیں جو زخم خوردہ یا تھکے ہوئے دلوں کو سکینت پہونچانے میں عجیب قسم کا قدرتی خاصہ رکھتے ہیں گویا ان کے ذریعہ قدرت نے ایک زخمی اور دکھتی ہوئی جگہ پر مسکن اور ٹھنڈی مرہم کا بھا یہ لگا دیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ جیسی جیسی کسی انسان کی ذمہ داریاں زیادہ بھاری اور زیادہ نازک ہوں گی ، اتنی ہی اسے اس قسم کی جذباتی سکینت کی زیادہ ضرورت ہوگی۔دنیا کے نادان اور بے عقل لوگوں نے غور نہیں کیا اور اپنی بے سمجھی سے خدا کے پیارے بندوں کو اعتراض کا نشانہ بنایا ہے کہ انہیں بیویاں کرنے اور بیویوں کی محبت سے متمتع ہونے کی کیا ضرورت ہے۔یہ بے وقوف لوگ اس