مضامین بشیر (جلد 1) — Page 453
۴۵۳ مضامین بشیر درست قرار دے کر اس کی تائید میں دلائل مہیا کروں اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے عقیدہ کے بطلان کو دنیا پر ظاہر کر کے مولوی صاحب اور اور ان کے ساتھیوں سے خراج تحسین حاصل کروں۔اس جرات اور دلیری پر میں سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ ان الله وانا اليه راجعون ولاحول ولاقوة الا بالله العلى العظيم غیر مبایعین کی مذبوحی حرکت اگر ہمارے غیر مبایعین اصحاب کی عقل و دانش کا حقیقتہ یہی فتویٰ ہے جو اوپر کے بیان میں ظاہر کیا گیا ہے اور اگر ان کی امانت و دیانت انہیں فی الواقع اسی نتیجہ کی طرف رہنمائی کرتی ہیں جو وہ میری طرف منسوب کر رہے ہیں تو غالباً یہ دنیا بھر میں فقدان عقل وخر داور حرمان دیانت وامانت کی ایک بدترین مثال ہوگی کہ ایک طرف تو ایک کتاب کی اشاعت پر انتہا درجہ چیں بچیں ہو کر اس کی تردید میں بے تحاشا ہاتھ پاؤں مارے جائیں اور دوسری طرف اس کتاب کے مضمون کو اپنی تائید میں قرار دے کر اسے بر ملا سراہا جائے۔یہ وہ عجیب و غریب ذہنیت ہے جو جناب مولوی محمد علی صاحب اپنی پارٹی کے دل و دماغ میں پیدا کر رہے ہیں اور جس پر انہیں اس قدر ناز ہے کہ اپنے ہر مضمون کو تحدیوں اور چیلنجوں کے ساتھ آراستہ کرنے میں لذت پاتے اور اس طریق میں اپنی عزت اور دوسرں کی لذت کا نظارہ دیکھتے ہیں۔بہر حال اس معاملہ میں غیر مبایع اصحاب کی مذبوحی حرکات اس قدر ظا ہر وعیاں ہیں کہ ہر غیر متعصب شخص انہیں آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے اور مجھے اس موضوع پر کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ناپاک کھیل میں حصہ لینے سے احتراز لیکن میں یہ بات کہنے سے کسی طرح رُک نہیں سکتا کہ جو فریق امانت و دیانت کے رستہ سے منحرف ہو کر اور خدا کی رضا جوئی کے طریق کو چھوڑ کر ایک مقدس مذہبی مسئلہ کو گو یا مرغ بازی کا اکھاڑہ بنانا چاہتا ہے اور تقویٰ اور خدا ترسی کے اصولوں کو خیر باد کہہ کر بحث کو صرف تو تو میں میں کی خاطر جاری رکھنے کا متمنی ہے میں اس کے مقابلہ میں کھڑا ہو کر کسی صورت میں اپنا وقت ضائع کرنے کے لئے تیار نہیں۔میرے اس طریق کو اگر دوسرا فریق میری کمزوری یا شکست سے تعبیر کرتا ہے تو بے شک کرے اور ہزار دفعہ کرے، مجھے اس کی پروا نہیں۔مجھے دنیا کی نظر میں شکست خوردہ کہلا نا منظور ہے اور لاکھ دفعہ منظور ہے مگر مجھے کسی صورت میں اس لعنت کے جوئے کے نیچے اپنی گردن رکھنا منظور نہیں