مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 452 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 452

مضامین بشیر ۴۵۲ سوم : حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں جماعت کے واقف کا راور مخلص اصحاب کا یہی خیال اور یہی عقیدہ تھا کہ حقیقتہ کسی غیر احمدی کا جنازہ جائز نہیں اور اسی کے مطابق جماعت کے مخلص اور واقف کا رطبقہ کا عمل تھا ( مثلاً دیکھو مسئلہ جنازہ کی حقیقت صفحہ ۹۹ تا ۱۰۷ و صفحه ۱۲۳ تا ۱۲۷ و غیره ) چہارم۔خود غیر مبایعین اصحاب کا بھی اختلاف کے ابتدائی ایام تک یعنی ۱۹۱۴ ء تک یہی خیال اور یہی عقیدہ تھا کہ غیر احمدیوں کا جنازہ جائز نہیں ( مثلا دیکھو مسئلہ جنازہ کی حقیقت صفحه ۴ ۲۰ تا ۲۰۸) پنجم : حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے جنازہ کے معاملہ میں از روئے حقیقت وہی فتوئے دیا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ اول نے دیا تھا اور اس مسئلہ میں آپ کا مسلک ہرگز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مسلک کے خلاف نہیں ( مثلاً دیکھو رسالہ مسئلہ جنازہ کی حقیقت صفحه ۱۷۵ تا ۱۸۴) یہ وہ پانچ باتیں ہیں جو میں نے اپنے رسالہ ” مسئلہ جنازہ کی حقیقت میں قطعی اور یقینی طور پر ثابت کی تھیں اور خدا کے فضل سے میں نے ہر بات پوری پوری تشریح اور توضیح اور تفصیل کے ساتھ دلیلیں اور مثالیں دے دے کر بیان کی تھی اور اپنی طرف سے کوئی شک وشبہ کا کوئی رخنہ نہیں چھوڑا تھا اور مجھے امید تھی کہ کم از کم غیر مبایعین اصحاب کا ایک حصہ میرے جواب کو حق جوئی کی روح سے مطالعہ کرے گا اور اسے صداقت اور معقولیت پر مبنی قرار دے کر قدر کی نظر سے دیکھے گا اور کم از کم یہ کہ آیندہ اس معاملہ میں خاموشی اختیار کر کے بحث کو نا واجب طول نہیں دے گا۔حیرت اور افسوس مگر مجھے یہ دیکھ کر سخت تعجب ہوا اور میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ میرے اس رسالہ کے جواب میں جس میں خدا کے فضل سے ہر بات نہایت مخلصانہ اور ہمدردانہ رنگ میں پیش کی گئی تھی اور نہ صرف جناب مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے بلکہ بعض دوسرے ذمہ دار غیر مبایعین کی طرف سے بھی ایسا رویہ اختیار کیا گیا ہے جو کسی طرح تقوی اور دیانت داری پر مبنی قرار نہیں دیا جا سکتا حتی کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ میری طرف یہ بات منسوب کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا کہ گویا میں نے مسئلہ جنازہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے مسلک کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مسلک کے خلاف قرار دے کر جناب مولوی محمد علی صاحب کے مسلک کو درست اور صحیح تسلیم کر لیا ہے یعنی بالفاظ دیگر میں نے یہ ۲۲۶ صفحہ کا رسالہ محض اسی غرض سے لکھا ہے کہ تا جناب مولوی محمد علی صاحب کے بیان کردہ عقیدہ کو