مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 442 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 442

مضامین بشیر ۴۴۲ میرے مضمون میں ایک قابل اصلاح غلطی آج مؤرخہ 1 فروری ۱۹۴۱ء کے 'الفضل میں میرا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس کی سرخی یہ ہے کون بہتر ہیں قربانی والے یا انعام والے مجھے افسوس ہے کہ اس مضمون کے آخری حصہ میں ایک ایسی غلطی ہوگئی ہے جو قابل اصلاح ہے۔آخری پیرے کے شروع میں یہ الفاظ آتے ہیں اے 66 ہمارے خدا۔اے ہمارے باپ جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے ”اے ہمارے پیارے باپ کے الفاظ نہیں لکھے تھے’ بلکہ اے ہمارے پیارے آسمانی باپ کے الفاظ لکھے تھے گو یہ ممکن ہے کہ جلدی میں مجھ سے آسمانی کا لفظ لکھنے سے رہ گیا ہو مگر میں یہی سمجھتا اور یقین رکھتا ہوں کہ میں نے یہ لفظ لکھا تھا اور کم از کم میری نیت میں یہ لفظ ضرور داخل تھا۔میں نے ایڈیٹر صاحب سے عرض بھی کیا تھا کہ میرے مضمون کی کاپی مجھے دکھا لیں تا کہ اگر کوئی غلطی ہو تو میں اس کی اصلاح کر سکوں مگر غالباً وہ کسی معذوری کی وجہ سے نہیں دکھا سکے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ” آسمانی باپ کی جگہ صرف’باپ“ کا لفظ چھپ گیا ہے اور اس کے علاوہ مجھے اور بھی بعض خفیف خفیف غلطیاں یا تبدیلیاں نظر آتی ہیں ممکن ہے کہ بعض دوست آسمانی باپ اور باپ کے مفہوم میں زیادہ فرق محسوس نہ کریں اور یہ خیال کریں کہ مراد بہر حال ایک ہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جو تو حید کا اعلیٰ سبق ہمیں اسلام سکھاتا ہے اور جس طرح اسلام نے ہر ظاہری اور باطنی رنگ کے شرک کے خلاف امت مسلمہ کی حفاظت فرمائی ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ غلطی حقیقتہ قابل افسوس اور قابل اصلاح ہے۔آسمانی باپ سے تو صراحتہ یہ مراد ہے کہ ہمارا ایک اصلی باپ الگ موجود ہے اور خدا کو صرف خاص تعلقات محبت ووداء کے اظہار کے لئے آسمانی باپ کہ کر پکارا گیا ہے لیکن آسمانی کے لفظ کے چھوڑ دینے سے گویا باپ کے لفظ کی نسبت خالصہ اور منفرداً ذات باری تعالیٰ کی طرف چلی جاتی ہے جو کسی طرح درست نہیں۔یہ درست ہے کہ اصل چیز لکھنے والے کی نیت اور اس کے دل کی حقیقی خیالات ہیں مگر ان غیر مادی خیالات کے لئے ہم جو جسم انتخاب کرتے اور جو زبان استعمال میں لاتے ہیں اس میں بھی بڑی احتیاط کی ضرورت ہے ورنہ آہستہ آہستہ مخفی شرک کے پیدا ہو جانے یا کم از کم توحید کے اعلیٰ مقام سے گر جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اور بہر حال خدا کی وراء الور آہستی کے سامنے مناسب حال الفاظ کا استعمال کیا جانا از بس ضروری ہے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ دوست اس بات کو نوٹ فرمالیں گے۔میرے مضمون