مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 412 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 412

مضامین بشیر ۴۱۲ کو پہونچتی ہے اور خدا کی رضا کا موجب ہوتی ہے وہ تمہارا تقویٰ ہے یعنی وہ جذبہ اور روح جس کے ماتحت تم خدا کی رضا تلاش کرتے ہو۔“ احادیث میں تشریح اس کی تشریح میں ایک لطیف حدیث بھی آتی ہے حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ ابو بکر کو جو تم لوگوں پر فضیلت ہے تو یہ اس کے نماز روزہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس چیز کی وجہ سے ہے جو اس کے دل میں ہے یعنی اس کے تقویٰ کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ بعض صحابہ ظاہری نماز روزہ میں ابوبکر سے آگے ہوں۔اور ظاہری اعمال میں حضرت ابو بکر کی نسبت بظاہر زیادہ شغف دکھاتے ہوں یا زیادہ خرچ کرتے ہوں مگر چونکہ تقویٰ میں حضرت ابو بکر آگے تھے اور اعمال میں اصل چیز ان کی روح ہی ہے جس کا دوسرا نام تقویٰ ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر کو دوسروں سے افضل قرار دیا۔اگر کسی شخص کو یہ نکتہ سمجھ نہ آئے یعنی وہ خیال کرتا ہو کہ زیادہ نماز روزہ بجالانے والے سے کم بجا لانے والا کس طرح افضل ہو سکتا ہے تو وہ یوں سمجھ سکتا ہے کہ ایک شخص ہے جس کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہے مگر وہ سب کھوٹا ہے اس کے مقابل پر ایک دوسرا شخص ہے جس کے پاس صرف ایک ہزار روپیہ ہے مگر یہ سب کا سب کھرا ہے تو اب بتاؤ کہ ان دونوں میں سے کون زیادہ دولتمند سمجھا جائے گا۔یقیناً وہی شخص زیادہ دولت مند سمجھا جائے گا۔جس کے پاس ایک ہزار کھرا روپیہ ہے اور ایک لاکھ کھوٹے روپے کے مالک کو بازار میں ایک پیسہ کی چیز بھی نہیں مل سکے گی۔یہی حال قیامت کو ہونے والا ہے کہ وہاں بھی صرف اس عمل کی قیمت پڑے گی جس کے اندر تقویٰ کی روح پائی جاتی ہے اور اس کے مقابل پر دوسرے اعمال کی ، خواہ وہ پہاڑ کے۔برابر ہوں اور خواہ وہ بظاہر کتنے ہی شاندار نظر آئیں کوئی قیمت نہیں دی جائے گی۔ایک دوسری حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص رمضان میں روزے رکھتا ہے مگر یہ روزے تقویٰ اللہ پر مبنی نہیں ہوتے اور روزہ رکھنے والا بدستور دُنیا کے گندوں اور اس سفلی زندگی کی آلائیشوں میں ملوث رہتا ہے۔تو خدا کے نزدیک ایسے شخص کا کوئی روزہ نہیں بلکہ وہ مفت میں بھوکا اور پیاسا رہتا ہے کیونکہ بیشک اس نے روزہ کے جسم کو تو اپنے سینہ سے لگا لیا۔مگر اس کی روح کو کھو دیا ہے اور روح کے بغیر جسم ایک مردہ لاش سے بڑھ کر نہیں اسی طرح ایک اور حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے بعد ایک ایسی قوم آنے والی ہے کہ ان کا کام گویا ہر وقت قرآن خوانی ہو گا مگر قرآن ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا ۲۲۔یعنی ان کی زبان پر تو