مضامین بشیر (جلد 1) — Page 408
مضامین بشیر ۴۰۸ تقومی پیدا کر تقومی تکمیل دین کی چار بنیادی چیزیں اللہ تعالیٰ نے دین کی تکمیل کے لئے چار بنیادی چیزیں مقرر فرمائی ہیں جن کے بغیر اسلام کی عمارت بلکہ کسی الہامی مذہب کی عمارت بھی مکمل نہیں ہو سکتی۔یہ چار چیز میں یہ ہیں۔اول ایمان دوم یقین سوم عمل چهارم تقویٰ اور چونکہ قانون فطرت میں ہر چیز بطور جوڑا پیدا کی گئی ہے اور جوڑے کے مفہوم میں جہاں نر و مادہ کی تقسیم شامل ہے۔وہاں جسم اور روح کی تقسیم بھی جوڑے ہی کے مفہوم کا حصہ ہے۔اس لئے ان چار چیزوں کو بھی حکمت الہی نے اس قدیم اصول کے ماتحت جوڑے کی صورت دی ہے۔یعنی ان میں سے دو چیز میں بطور جسم کے ہیں اور دو چیزیں بطور روح کے ہیں۔اور یہ جسم و روح مل کر گویا چار چیزوں سے دو مکمل چیزیں بنتی ہیں۔جو ایک اور جہت سے آپس میں پھر جوڑا ہیں۔ان جوڑوں کی تشریح مجملاً یہ ہے کہ ایمان جسم ہے اور یقین اس کی روح ہے جس سے ایمان کو زندگی حاصل ہوتی ہے اور پھر عمل صالحہ جسم ہے اور تقویٰ اس کی رُوح ہے جس کے بغیر عمل صالحہ ایک بے جان جسم سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا اور جب تک یہ چاروں چیزیں مل نہ جائیں دین مکمل نہیں ہوتا۔ایمان اور یقین ایمان کے لغوی معنی مان لینے کے ہیں اور دینی اصطلاح میں اس کے یہ معنی ہیں کہ اس بات کا اقرار کیا جائے کہ اس دُنیا کا ایک خدا ہے اور اسی نے یہ ساری کائنات پیدا کی ہے اور اسی نے ہماری ہدایت کے لئے رسول کو بھیجا اور اس پر اپنی کتاب نازل کی وغیرہ وغیرہ۔مگر ظاہر ہے کہ یہ ایمان صرف ایک جسم ہے جو اپنی روح کے بغیر بالکل مُردہ ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ یہ ایمان محض رسمی ایمان ہو اور ایمان کا دعوی کرنے والا محض ماں باپ سے سُن کر یا دوسرے لوگوں کو دیکھ کر ایمان کا اظہار کرتا ہوا اور اس کے دل میں اس ایمان نے جڑ نہ پکڑی ہو یا ہو سکتا ہے کہ یہ ایمان محض نمائشی ایمان ہو اور صرف دوسروں کو دکھانے کے لئے اس کا اظہار کیا جاتا ہو اور دل میں اس کی کوئی جگہ نہ ہو۔اس صورت میں یہ ایمان ایک محض مُردہ ایمان ہے جس کی خدا کے دربار میں کچھ بھی قیمت نہیں کیونکہ وہ ایک بے جان