مضامین بشیر (جلد 1) — Page 389
۳۸۹ مضامین بشیر اظہار کے لئے الفاظ نہیں پاتا جو میرے دل میں اپنے روحانی بھائیوں اور بہنوں کے متعلق یہ دیکھ کر پیدا ہوئے ہیں کہ انہوں نے کس طرح ہمارے صدمہ کو اپنا سمجھا اور ہمارے درد کو اپنا درد خیال کیا اور ہماری تکلیف کے احساس سے ان کی روحیں بے چین ہو گئیں۔بہت سے دوستوں کو میں دیکھتا تھا کہ وہ ہمارے سامنے آکر اپنے جذبات کی شدت میں پھوٹ پڑنے کے لئے تیار تھے مگر ہمارے اندرونی تلاطم کو محصور دیکھ کر بڑی کوشش کے ساتھ رک جاتے تھے مگر بعض ایسے بھی تھے کہ وہ رکنے کی طاقت نہ پا کر پھوٹ پڑتے تھے اور ہمیں انہیں تسلی دلانی پڑتی تھی۔بہت سے لوگ جنازے کی شرکت کے لئے باہر سے تشریف لائے۔بعض نے خود اپنی طرف سے تاریں دے کر اپنے باہر کے عزیزوں کو قادیان بلایا تا کہ وہ ہمارے غم میں شریک ہو سکیں۔کئی ایسے ہیں جن کو اس حادثہ کے بعد رات بھر نیند نہیں آئی اور انہوں نے ہمارے خاندان کے لئے دعا کرتے ہوئے رات بسر کی اور ایک بہت بڑی تعداد نے جو باہر رہتے ہیں خطوں اور تاروں اور زبانی پیغاموں کے ذریعہ اپنی دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ہم اپنے ان لا تعداد دوستوں بہنوں اور بھائیوں کا سوائے اس کے اور کیا شکر یہ ادا کر سکتے ہیں کہ خدا یا جس طرح ہمارے ان روحانی عزیزوں نے تیرے پاک مسیح میں سے ہوکر اور اس کے ساتھ رشتہ جوڑ کر ہماری محبت کو اپنے سینوں میں جگہ دی اور ہمارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا اور تمام دنیوی رشتوں سے بڑھ کر اس روحانی رشتہ کی قدر کی۔اسی طرح تو بھی ان کی محبت کو اپنے دل میں جگہ دے اور ان کی تکلیفوں میں ان کا حافظ و ناصر ہو اور ان کے اس روحانی پیوند کو اپنے فضل و رحم کے ساتھ ایسا نواز اور ایسا با برکت کر کہ اس پیوند سے پیدا ہونے والے درخت سے قیامت تک تیری رضا اور خوشنودی کے پھل اترتے رہیں۔جو دنیا میں تیرے نام کو روشن کرنے والے اور تیرے کام کو تکمیل تک پہونچانے والے ہوں۔امين اللهم امين واخر دعوان الحمد لله رب العالمين۔(مطبوعہ الفضل ۲ جولائی ۱۹۴۰ء)